ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 86

۸۶ ملائكة الله کے خاص مقرب ہوتے ہیں ان کے لئے کئی کئی ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کا لطیف ثبوت دوسری جگہ سے بھی ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کرتے کرتے مؤمن اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کے ہر سوراخ پر فرشتے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدار (الرعد: ۲۴-۲۵) فرمایا۔جب انسان مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے تو ملائکہ ہر دروازے سے آکر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کہ تمہارے صبر کے بدلہ میں تم پر سلامتی ہو۔اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ بہت سارے فرشتے ہوں گے اس لئے مختلف دروازوں سے آکر سلام کریں گے کیونکہ اگر بہت فرشتے ہوں تو وہ بھی ایک ہی دروازہ سے آسکتے ہیں۔اور اگر کہا جائے کہ اتنا ہجوم ہو گا کہ ایک دروازہ سے نہیں آسکیں گے تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت اور کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ایک دروازہ سے آئیں یا مختلف دروازوں سے آئیں ایک ہی بات ہو گی۔اصل میں اس کے یہی معنے ہیں کہ قیامت کے دن ہر دروازہ کا فرشتہ آئیگا اور آکر مبارک باد دے گا کہ تم اس میں کامیاب ہو گئے ہو جس میں میں اور تم دونوں مل کر شیطان کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اس وقت فرشتہ کو بھی خوشی ہوگی اور انسان کو بھی۔تو ہر سوراخ کا فرشتہ اسے سلامتی کی دُعا دے گا۔رہی یہ بات کہ آیا کئی دروازے ہوتے ہیں یا نہیں یہ موٹی بات ہے اور ہر انسان جانتا ہے کہ بیرونی چیزوں کے اثر کرنے کے کئی ذرائع ہیں۔کبھی انسان آنکھ سے روپی دیکھتا ہے تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوتی ہے اور وہ چوری کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اگر اس کی آنکھیں نہ دیکھتیں تو یہ خیال بھی اس کے دل میں نہ پیدا ہوتا۔پھر کبھی