ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 83

۸۳ ملائكة الله بي وجود ثابت ہے اور اس کا ہر چیز کا خالق ہو نا مسلم ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کا تعلق اشیاء سے کسی ذریعہ سے ہے اور اسی ذریعہ کو ہم ملائکہ کہتے ہیں۔لیکن جو یہ نہیں مانتا کہ خدا ہے یا وہ سب اشیاء کا خالق ہے تو اس کے سامنے ہم ملائکہ کی بحث نہیں پیش کریں گے بلکہ اس سے پہلے یہ منوائیں گے کہ خدا ہے اور وہ دُنیا کا خالق ہے۔اور جو اس کو مان لے گا اسے قانون قدرت پر نگاہ کر کے لازما یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی لطیف مگر مخلوق ہستیاں ایسی ہیں جو اللہ اور موجودات ظاہری کے درمیان بطور واسطہ ہیں اور یہ ایسی بات ہے جو سائنس کی رو سے ثابت ہے۔سائنس کا مسئلہ ہے کہ ہر ایک چیز کے اسباب ہیں۔لطیف سبب اپنے سے موٹے سبب پر اثر ڈالتا ہے اور وہ اپنے سے موٹے پر اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے چلتا ہے۔پس ہم مانتے ہیں کہ کونین میں جو خاصیت آئی ہے وہ اور اسباب کے ذریعہ آئی ہے۔اور کونین بھی کئی اجزاء سے مرکب ہے اور کوئی بھی چیز مفرد نہیں سب مرتب ہیں۔کونین کے اندر ایک خاص جزو ہے جس کا اثر بخار پر ہوتا ہے اور اس جزو کا اثر بعض اور مخفی اسباب کی وجہ سے ہے اور وہ مخفی اسباب کی طرف منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخری ذریعہ ملائکہ ہیں۔اور وہ خدا تعالیٰ سے براہ راست فیضان حاصل کرتے ہیں کیونکہ اصل خالق وہی ہے۔اگر یہ نہ مانا جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ ہر چیز کی ذاتی خاصیت ہوتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا چیزوں کا خالق نہیں ہے اور اگر خدا کو چیزوں کا خالق مانا جائیگا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہر چیز میں خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور خواص اشیاء کو مختلف اسباب مخفیہ کا نتیجہ دیکھ کر بھی ماننا پڑے گا کہ انہی اسباب مخفیہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم ان تک پہنچتا ہے اور انہی کی آخری کڑی کا نام ملک ہے۔