ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 82

۸۲ ملائكة الله تسلیم کر لے کہ خدا ہے اور اس نے مادہ پیدا کیا ہے ورنہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ قو میں جو خدا کی ہستی کی قائل نہیں یا خدا کی تو قائل ہیں لیکن مادہ کو مخلوق نہیں مانتیں وہ فرشتوں کی قائل نہیں ہوتیں۔پس پہلے یہ اُمور فیصلہ کئے جائیں گے اور ان کے بعد ملائکہ پر بحث ہو سکے گی۔اور جب ملائکہ پر بحث ہوگی تو اس کے ساتھ ہی یہ بات تسلیم شدہ قرار دی جائے گی کہ خدا کی ہستی اور مادہ کا مخلوق ہونا تسلیم کیا جاتا ہے اور جب کوئی یہ باتیں تسلیم کرے گا تو اسے یہ بھی ماننا پڑیگا کہ خدا نے چیزوں میں صفات رکھی ہیں اس کے متعلق ہمارا دعویٰ صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اشیاء میں صفات براہ راست نہیں رکھیں بلکہ ملائکہ کے توسط سے رکھی ہیں۔کیونکہ چیزیں کثیف ہیں اور خدا تعالیٰ لطیف۔اور ہم قوانین نیچر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کثیف اشیاء پر اثر ڈالنے کے لئے وسائط مقرر فرمائے ہیں۔سب لطیف چیزوں کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ کثیف کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے وسائط ہوتے ہیں۔خود کثیف چیز لطیف سے تعلق نہیں رکھ سکتی۔انسان کو ہی دیکھ لو اس میں قلب، روح یا MIND کچھ کہ لوکوئی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان سب کام کرتا ہے اور جب وہ نہیں رہتی تو انسان بے جان ہو جاتا ہے لیکن وہ چیز جو اس کے اندر ہے وہ اسے نہیں کہتی کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ وہ نہایت باریک اعصاب پر اثر کرتی ہے اور وہ آگے بار یک شاخوں پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح ہوتے ہوتے کسی عضو میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے۔مثلاً آنکھ کو براہ راست روح یا مائنڈ کوئی حکم نہیں دیتی بلکہ نہایت بار یک اعصاب پر اثر کر کے تدریجی طور پر اس پر اپنے منشاء کا اظہار کرتی ہے۔غرض جتنی لطیف اشیاء ہیں وہ کثیف کے ساتھ وسائط کے ذریعہ تعلق پیدا کرتی ہیں۔پس ہم کہتے ہیں کہ خدا کا