ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 81

ΔΙ ملائكة الله دلائل سے ثابت ہونا اور۔مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر نہیں گئے تو اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ان کا آسمان پر جانا ممکن نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کے خلاف دلائل موجود ہیں تو پھر قیاس نہیں چلایا جا سکتا۔قیاس اسی وقت چلتا ہے جب دلائل موجود نہ ہوں۔قیاس اور امکان کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اور بھی صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ سارے امکان ایک بات میں پائے بھی جاتے ہیں۔پس ہوسکتا تھا کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی متعلق ہوں اور یہ امکان ہے مگر دوسرے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ خواص کا تعلق ملائکہ سے ہے۔پھر ہم یہ نہیں کہتے کہ اشیاء میں خواص نہیں۔ہمارا یہ دعویٰ نہیں۔بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی محرک ملائکہ ہیں۔ملائکہ کوحکم ہوتا ہے اور وہ اپنے سے اگلے سبب پر اثر کرتے ہیں۔وہ اپنے سے اگلے پر اور اسی طرح ہوتے ہوتے ظاہری موجودات پر اس کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔وہ لوگ جو خدا کو مانتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا نے مادہ پیدا کیا ہے، ان کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جتنی چیزیں ہیں ان کی خاصیتیں خدا نے ہی رکھی ہیں۔ورنہ یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ مادہ غیر مخلوق ہے خدا نے پیدا نہیں کیا بلکہ اپنے آپ ہی ہے اور خدا کوئی ہستی نہیں ہے۔اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو اس کو ملائکہ کے متعلق کچھ بتانے سے قبل خدا کی ہستی کا قائل کرانا ہوگا۔پھر اگر خدا کی ہستی کا کوئی قائل ہو جائے لیکن یہ کہے کہ ہر چیز اپنے آپ ہی پیدا ہو گئی ہے تو پھر ملائکہ کے متعلق اسے کچھ کہا جائے گا۔ہاں جب یہ بھی تسلیم کرلے کہ ہر ایک چیز کو پیدا کرنے والا خدا ہے تو پھر اس کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ ملائکہ کا وجود بھی ثابت ہے۔پس یہ سوال تب اُٹھایا جا سکتا ہے جب کوئی یہ