ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 46

میری آبرور کھ لی۔۴۶ ملائكة الله تو یہ علم جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھایا جاتا ہے۔ہمیشہ ضرورت کے وقت کام آتا ہے اور اس کے یاد نہ رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اگر بات یاد رہتی تو ایک ہی دفعہ کے لئے وہ ہوتی مگر اس طرح یہ علم ہمیشہ کام آتا ہے۔اب کبھی کوئی اعتراض کرے اور کوئی حافظ نہ ہوجس سے قرآن کی کوئی اور آیت پوچھی جا سکے تو خدا تعالیٰ سورۃ فاتحہ سے ہی مجھے اس کا جواب سمجھا دیتا ہے۔تو سماوی علوم میں برکت ہوتی ہے کہ جب ضرورت پڑے ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔پس ملائکہ کے ذریعے علوم سکھائے جاتے ہیں۔محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے بہت سے علوم ملائکہ نے سکھائے ہیں (فتوحات مکیہ جلد 1 صفحہ ۶ مطبوعہ مصر ) صوفیاء میں سے بھی ہیں جنہوں نے ملائکہ کے متعلق بحث کی ہے۔اگر چہ ان کی بحث حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ کئی ہزار الفاظ کا مادہ آپ کو سکھایا گیا۔میں نے بھی اور بہت سی باتیں ملائکہ کے ذریعہ سکھی ہیں۔ایک دفعہ گناہ کے مسئلہ کے متعلق اس وسعت کے ساتھ مجھے علم دیا گیا کہ میں اس کا خیال کر کے حیران ہو جاتا ہوں کہ کس عجیب طریق سے کوتاہیوں اور غلط کاریوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔سترھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کے دل میں نیک تحریک اور نیک خیال پیدا کرتے ہیں۔یہ اس فرشتہ کا کام ہوتا ہے جو ہر ایک انسان کے لئے الگ الگ مقرر ہوتا ہے۔اصل میں یہ انتظام جبرائیلی تسلط کے ماتحت ہی ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کے دل میں نیک تحریکیں کرتارہتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔فِي الْقَلْبِ لَمَّتَانِ لَمَّةٌ مِنَ الْمَلَكِ إِيْعَادُ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ