ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 10

ملائكة الله کوئی وجود نہیں ہے۔بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو قوت پیدا ہوتی تھی اسی کا نام ملائکہ رکھ دیا گیا ہے۔اور یہ جو نام جبرائیل یا میکائیل رکھ دئے گئے ہیں ان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں میں چونکہ ان کا خیال پھیلا ہوا تھا اور یہ نام رائج تھے اس لئے اپنی باتوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے ان کے نام لے دیئے گئے ہیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ملائکہ کا وجود اس زور کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد اگر کثرت کے ساتھ کوئی مسئلہ پایا جاتا ہے تو ملائکہ کا ہی ہے۔وحشی سے وحشی قوموں کے حالات سے بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ ملائکہ کو مانتے تھے۔بہت سے مذاہب ایسے ہیں جن کی تعلیمیں اب دنیا میں پائی نہیں جاتیں مگر ان کے آثار قدیمہ سے ملائکہ کا پتہ لگتا ہے اور جو مذاہب موجود ہیں ان میں تو نہایت صفائی کے ساتھ ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔دیگر مذاہب میں ملائکہ کا ذکر چنانچہ قدیمی مذاہب میں سے سب سے زیادہ زرتشتی مذہب میں بیان کیا گیا ہے۔اس مذہب کے لوگوں نے جس صفائی کے ساتھ ملائکہ کے متعلق بیان کیا ہے (اگر چہ انہوں نے اس بیان میں غلطیاں بھی کی ہیں) مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنا مسلمانوں نے نہیں کیا۔ان لوگوں نے ملائکہ کا ذکر نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ان کے بعد دوسرے درجہ پر یہودی ہیں۔یہ چونکہ تازہ ہی مذہب ہے اور کوئی بہت زیادہ زمانہ اس پر نہیں گزرا اور اس کی حفاظت بھی ایک حد تک ہوتی رہی ہے۔اس میں بھی ملائکہ کے متعلق بہت سی تعلیم موجود ہے۔ان کے بعد ہند و ہیں۔ان کا مذہب اگر چہ بہت قدیم کا ہے مگر ان میں بھی ملائکہ کو تسلیم کیا گیا ہے۔گو آج کل یہ لوگ ان کی اور تشر یکیں