ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 115

۱۱۵ ملائكة الله یا درکھنا چاہئے کہ یہ مقابلہ مسیح نہیں ہے کیونکہ انسان کا جسم چند روز کے لئے ہے اور جسم اور روح کا مقابلہ دلالت بالا ولی کے طور پر ہے نہ کہ کلی طور پر۔جسم چونکہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہے اس لئے اس کی قوتیں محدود ہیں۔مگر روح چونکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔اس لئے اس کی طاقتیں بھی غیر محدود ہیں۔اور روح کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جتنا کوئی اسے بڑھائے بڑھتا جاتا ہے اور جتنی انسان ترقی کرنا چاہے اتنی ہی کر سکتا ہے۔پس روحانی طاقت نے چونکہ ہمیشہ کام آنا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے بڑھانے کے غیر محدود ذرائع رکھے ہیں۔اور جسمانی طاقت چونکہ ختم ہونے والی ہے کیونکہ جسم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کی طاقتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں اس لئے ان کے بڑھانے کے محدود ذرائع رکھے گئے ہیں۔اس کا ثبوت ہم خدا تعالیٰ کی پیدائش سے دیتے ہیں۔یہ ثابت شدہ بات ہے کہ تمام جسمانی طاقتیں ایسی ہیں جو محدود ہیں۔ایک حد تک بڑھ سکتی ہیں اور اس سے آگے نہیں جاسکتیں۔مثلاً معدہ ہے یہ ایک حد تک بڑھے گا اس سے آگے نہیں۔اسی طرح سینہ ہے یہ بھی ایک حد تک بڑھے گا۔اسی طرح سر ہے اس کے بڑھنے کی بھی ایک حد ہے۔یہ نہیں کہ بڑھتے بڑھتے مٹکے کے برابر ہو جائے یا قد ہے چھ سات یا زیادہ سے زیادہ نوفٹ ہو جائے گا مگر ہیں پچیس فٹ تک نہیں جا سکے گا۔تو جس قدر جسمانی چیزیں ہیں ان کی حد مقرر ہے۔لیکن وہ قو تیں جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتیں۔مثلاً دماغ میں باتوں کو محفوظ رکھنے کے ذرات ہیں ان کو جتنا بڑھاؤ بڑھتے جاتے ہیں اور خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو جائے اس کے یہ ذرات ختم نہیں ہو جائیں گے اور یہ طاقت بڑھتی جائے گی کیونکہ یہ روحانیت سے تعلق رکھتی ہے۔اور جسم اور روح کا واسطہ دماغ ہی ہے۔مگر معدہ وغیرہ کے