ملائکۃ اللہ — Page 111
ملائكة الله دوسرے دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز کے لئے اُٹھاتا ہے۔انہوں نے پوچھا تو کون ہے۔اس نے کہا میں شیطان ہوں جو تمہیں نماز کے لئے اُٹھانے آیا ہوں۔انہوں نے کہا تجھے نماز کے لئے اُٹھانے سے کیا تعلق؟ یہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور تم سوتے رہے اور نماز نہ پڑھ سکے اس پر تم سارا دن روتے رہے خدا نے کہا اسے نماز باجماعت پڑھنے سے کئی گنا بڑھ کر ثواب دے دو۔مجھے اس بات کا صدمہ ہوا کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔تو شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا رہے۔اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔اور یہ بات اسلام سے ثابت ہے کہ شیطان مایوس ہو جاتا ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شیطان کی تحریک کو انسان نیکی کے رنگ میں استعمال کر سکتا ہے اور وہ نیکی کے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیطان کے دو قسم کے اثر ہوتے ہیں۔ایک عام اثرات جیسے بدخیال پیدا کرنا جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ایسے خیالات کے اثر ہم میں سے ہر شخص پر حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑیں گے۔یہ اور بات ہے کہ آگے کوئی شاید کسی کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ ملائکہ تو خدا تعالیٰ سے فیضان حاصل کر کے انسان کو پہنچاتے ہیں۔شیطان کس سے فیضان حاصل کرتا ہے اور پھر اس کا اثر لوگوں پر ڈالتا ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ دوسروں کو دینے والے کے لئے ذخیرہ اور خزانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔چھینے والے کو کسی ذخیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔شیطان کا کام چونکہ کس کو کچھ دینا نہیں بلکہ چھینا ہے اس لئے اسے ذخیرہ اور خزانہ کی بھی ضرورت نہیں ہے اور نہ وہ کسی سے فیضان حاصل کرتا ہے۔