ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 107

1+2 ملائكة الله نیکی نہیں ہے کہ اس طرح تم دوسروں کے حقوق جو تم پر ہیں، مارتے ہو یا نیکی یہی ہے کہ انسان تدریجی کام کرے۔پہلے ایک قدم اُٹھائے، پھر دوسرا اور پھر تیسرا، یہ ملکی تحریک کی علامت ہوتی ہے۔اور شیطانی تحریک یکدم ایک کام کرانا چاہتی ہے۔مثلاً ایک شخص جو پہلے کچھ بھی دین کے لئے چندہ نہیں دیتا اسے تحریک ہو کہ میں اگلے مہینے سارا مال چندہ میں دے دوں گا تو چونکہ یہ اس کی حقیقی خواہش نہ ہوگی اس لئے جب دے دے گا تو پھر اس کو ملال پیدا ہوگا اور جب ملال پیدا ہو گا تو اس پر شیطان کا قبضہ ہو جائے گا جو اسے بالکل گمراہ کر دے گا۔پس شیطانی تحریک کی یہ صورت ہوگی کہ وہ مجبلت کی طرف لے جائے گا اور یکدم بہت زیادہ بوجھ رکھ دے گا۔پہلے تو یہ تحریک کرے گا کہ آج ہی تو خدا سے مل جا، جب یہ بات حاصل نہ ہوگی تو انسان کے دل میں مایوسی پیدا کر دے گا۔کئی لوگ ہوتے ہیں جو ہفتہ بھر نمازیں پڑھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تو خدا نہیں ملا۔اور بہت ایسے ہوتے ہیں جو چند دن نمازیں پڑھ کر خواہش کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملیں حالانکہ یہ سب شیطانی وسوسے ہوتے ہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے قابل بن جائے گا تب دیکھ سکے گا۔یونہی کس طرح دیکھ لے تو اس قسم کی مجلت شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انسان کو وہ بات حاصل نہیں ہوتی جس کی اسے اُمید ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور پھر بالکل چھوڑ چھاڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے۔بخاری کتاب التهجد باب ما يكره من ترك قيام الليل لمن كان يقومه