ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 105

۱۰۵ ملائكة الله کا خیال رکھنا ضروری ہے لیکن سب کچھ اسی پر خرچ کر دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ دس آدمیوں کو زندہ رکھنے کے لئے کھانا تیار کرنے کا جو سامان ہو اس سے ایک ہی آدمی کے لئے پلاؤ پکا لیا جائے اور باقی سب کو بھو کا مر جانے دیا جائے۔دس آدمیوں کو زندہ رکھنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ ایک کو پر تکلف کھانا کھلا دیا جائے۔پس تعلیم پر سارا روپیہ اور ساری محنت خرچ کرنے کی نسبت یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو رُوحانی زندگی حاصل کرانے کی کوشش کی جائے۔اور اس بڑے کام کو چھوٹے کام کے لئے نہ چھوڑا جائے ورنہ اعلیٰ اور ادنی کام میں مواز نہ نہیں رہے گا۔موازنہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت لطیف پیرائے میں اشارہ فرمایا ہے۔آپ سے پوچھا گیا کہ حرام اور حلال چیز کا کس طرح پتہ لگے فرمایا: الْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ اپنے دل سے پوچھ لینا چاہئے۔اگر ساری دُنیا کے مولوی کہتے رہیں کہ فلاں بات ناجائز ہے لیکن دل فتوی دے کہ جائز ہے تو جائز ہوگی۔یہ بات ان امور کے متعلق نہیں جن کے جائز و نا جائز ہونے کا فیصلہ شریعت نے کر دیا ہے بلکہ ان کے متعلق ہے جن کا کرنا بعض لحاظ سے نیکی معلوم ہو اور بعض لحاظ سے بدی۔اگر ایسی بات کے کرنے کو دل نہ مانے تو نہ کی جائے۔مثلاً ذکر ہے اس کے متعلق اگر کسی مولوی سے پوچھا جائے گا تو وہ کہے گا کہ اچھا ہے۔مگر یہ کہ نفل پڑھنے اس کے لئے چھوڑ دئے جائیں۔یہ اس کے اپنے دل کی بات ہوگی۔اس کا فیصلہ اس کا دل ہی کر سکے گا۔یا مثلاً کوئی کہے کیوں جی! کسی کی خاطر داری یا کسی کو تحفہ دینا کیسا ہے؟ ایک عالم یہی جواب دے گا کہ اچھی بات ہے لیکن اگر اس تحفہ کا مطلب وہ اپنے دل میں کسی کو رشوت اور ڈالی رکھ لے تو گو اس کو فتویٰ مل گیا کہ جائز ہے لیکن اس کی جو نیت اس فتویٰ کے حاصل کرنے کے وقت تھی مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۲۲۷