ملائکۃ اللہ — Page 92
۹۲ ملائكة الله جو نیک ہوتے ہیں ملائکہ آجاتے ہیں اور بد کے لئے شیطان۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَن كَانَ لَهُ مِنْ قَلْبِهِ وَاعِظُ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ حافظ جس کے اپنے دل میں نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ایک نگران فرشتہ کو مقرر کر دیتا ہے اور یہی حال بُری تحریکوں کا ہوتا ہے جس کے دل میں بڑے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں اس کے اوپر ایک شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ نیکی اور بدی پہلے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔گو اس کی تحریک بیرونی اسباب سے ہوتی ہو۔اور پھر اگر نیک تحریک ہو تو ملک اس کو بڑھاتا ہے اور اگر بد ہو تو شیطان ایسے آدمی کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ورنہ اگر تحریک پہلے ہی سے باہر سے آتی اور قلب کا اس سے تعلق نہ ہوتا اور اس کے قبول کرنے یا رد کرنے میں اس کا کوئی دخل نہ ہوتا تو پھر انسان مجبور ہوتا۔لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ”کند ہم جنس با ہم جنس پرواز“ کے ماتحت جب قلب میں نیکی کی تحریک پیدا ہوتی ہے تو ملائکہ سے تعلق ہو جاتا ہے اور جب برائی کی تحریک ہوتی ہے تو بد ارواح تعلق پیدا کر لیتی ہیں۔پس یہ جو دونوں تحریکیں ہیں ان کے متعلق یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے۔بہت لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ ہم روحانی ترقی کس طرح حاصل کریں۔ان کا جواب یہ ہے کہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کا مطالعہ کرتا رہے۔روحانی ترقی یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج اور مراتب کا حال معلوم ہوتا جائے اور اس کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کے قلب میں نیک احیاء علوم الدین مؤلف امام غزالی جزء ۳ کتاب شرح عجائب القلب بيان مجامع أوصاف القلب و امثلته مطبوعہ بیروت