ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 75

۷۵ ملائكة الله پڑے ان کے اندرونے میں فرق ہو تو با وجود ایک شئے کا ہی عکس پڑنے کے پھر بھی نتیجہ میں فرق ہو گا۔اور یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب انبیاء پر فضیلت ہے کہ آپ کا سینہ سب سے اعلیٰ اور مصفی تھا اور اس پر جو عکس پڑا وہ سب سے بڑھ کر تھا۔اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کبھی فیضان کی نوعیت کے لحاظ سے اس کے نام مختلف رکھ دیئے جاتے ہیں۔یوں وہ روح القدس کا ہی فیضان ہوتا ہے اور فیضان کی نوعیت قلب کی صفائی کے مطابق ہوتی ہے۔دیکھو جب سورج کا عکس لینا ہو اور معلوم ہو کہ اس کے لئے شیشہ بہت بہتر ہے تو اسی پر لیں گے نہ کہ لوہے کے ٹکڑے پر لیں گے۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب بہترین قلب تھا اس لئے آپ پر فیضان کا جو عکس پڑا وہ چونکہ سب سے اعلیٰ اور بڑھ کر تھا اس لئے وہی قیامت تک رہے گا اور اس طرح فیضان کی نوعیت بدل گئی۔دیکھو حضرت مسیح کو جبرائیل کے فیضان کی شکل کشف میں کبوتر کی دکھائی گئی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ فیض آدمی کی شکل میں آیا جو بہت اعلیٰ اور اکمل فیضان تھا۔تو فیضان کی نوعیت کا بھی فرق ہوتا ہے۔اسی نوعیت کے فرق کی وجہ سے جبرائیل کے کئی نام ہیں۔روح القدس ، روح الامین وغیرہ۔روح القدس جبرائیل کا نام اس کلام پاک کی وجہ سے ہے جو وہ نازل کرتا ہے اور روح الامین اس کا لقب اس کلام پاک کے نازل کرنے کی وجہ سے ہے جس کی ہمیشہ اس نے حفاظت بھی کرنی تھی اور جس کلام کو ہر قسم کے نقص سے محفوظ رکھنا اس کا فرض تھا۔ہے نام جبرائیل کے لئے اسی فیضان کی وجہ سے ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر