ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 70

کروں گا۔ملائكة الله یا درکھنا چاہئے کہ ملائکہ کے اثرات تین اقسام کے ہیں اور شیطان کے اثرات بھی تین قسم کے ہیں۔ملک کا پہلا تعلق انسان سے وہ ہوتا ہے جسے لمہ ملکیہ کہتے ہیں یعنی فرشتے کی تحریک۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہ رستہ چلتے چلتے انسان بھولنے لگ جاتا ہے کہ ایک آدمی اسے کہہ دیتا ہے یہ سڑک نہیں، وہ ہے جس پر تمہیں جانا چاہئے۔اسی طرح ملائکہ کی طرف سے تحریک ہو جاتی ہے اور یہ تعلق ایسا ہی ہوتا ہے جیسا ایک کا اجنبی سے ہوتا ہے۔اس سے اوپر جب تعلق بڑھتا ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسا سفر میں دوست کا دوست سے ہوتا ہے جو دوست کسی رستے کا واقف ہوتا ہے جدھر وہ جاتا ہے اُدھر ہی اس کا ساتھی بھی جاتا ہے۔یہ نہیں کہ ہر قدم پر اس سے پوچھتا ہے کہ کدھر جا رہے ہو؟ اسی طرح اس مرتبہ میں جب فرشتہ ساتھ ہو جاتا ہے تو انسان اور فرشتہ دونوں ایک ہی طرف چلتے ہیں اس کو تائید روح القدس کہتے ہیں اور یہ تائید نزول کے لفظ کے ساتھ تعبیر کی جاتی ہے۔جب کسی کو نزولِ رُوح القدس کا مقام حاصل ہو جاتا ہے تو یہ تعلق دائی ہوتا ہے مگر پہلا یعنی لمہ ملکی کا تعلق عارضی ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر تیسرا درجہ ہوتا ہے جس میں فرشتہ اور انسان کا تعلق غلام و آقا کا ہو جاتا ہے یعنی فرشتہ محض ساتھی نہیں ہوتا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی اطاعت اور خدمت کا بھی حکم مل جاتا ہے اور وہ دوست کی طرح نہیں خادموں کی طرح ساتھ رہتا ہے۔یہی وہ مرتبہ ہے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کو الہام ہؤا کہ ” آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ ( تذکرہ صفحہ ۳۹۷ ایڈ یشن چہارم) آگ کے غلام ہونے کا