ملائکۃ اللہ — Page 60
ملائكة الله چو تھا جواب اس کا یہ ہے کہ تم ملائکہ کے مقرر کرنے کو احتیاج کہتے ہو ہم اسے حکمت کہتے ہیں اور ملائکہ کے مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ علوم کی وسعت ان کے مخفی اسباب اور پھر ان کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔مثلاً کونین میں جو صفات تھیں وہ اگر مخفی نہ ہوتیں تو اس کے متعلق جو علم نے ترقی کی ہے وہ نہ ہوتی۔پس علوم کی وسعت کے لئے مخفی سامانوں کا ہونا ضروری ہے۔جب تک اسباب مخفی نہ ہوں وسعت نہیں ہوسکتی کیونکہ جو بات ظاہر ہو اس میں وسعت کہاں پیدا کی جاسکتی ہے؟ پس علوم میں وسعت کے لئے خدا تعالیٰ نے مخفی سامان رکھے ہیں۔اور جوں جوں ان کو دریافت کیا جاتا ہے علوم میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے اور جس قدر کوئی ان کے دریافت کرنے میں زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے اسی قدر زیادہ فائدہ اور ناموری حاصل کرتا ہے۔اگر یونہی تپ اتر جایا کرتا تو وہ ڈاکٹر جس نے اس کے اسباب پر غور و فکر کرتے کرتے اس کا علاج کو نین دریافت کیا، اس میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوتا اور اس علم میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ کس طرح ہوتی ؟ پس دنیا میں ترقی اور درجہ حاصل کرنے کا مخفی اسباب بہت بڑا ذریعہ ہیں۔اگر یہ نہ ہوتے تو نہ کوئی ترقی کرسکتا اور نہ اعلیٰ درجہ حاصل کر سکتا۔یہی حالت روحانیت کی ہے۔انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ رُوحانی ترقی حاصل کرے اس کے لئے روحانی اسباب بھی مخفی رکھے گئے ہیں جو اُن سے کام لیتا ہے وہ انعام اور درجہ حاصل کرتا ہے۔پس ترقیات کے لئے اختفاء کی بہت سخت ضرورت ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ اگر مخفی اسباب مانے جائیں تو خدا کو ان کا محتاج قرار دینا پڑے گا۔مخفی اسباب کا ہونا خدا تعالیٰ کی احتیاج نہیں ثابت کرتا بلکہ بندہ کی احتیاج ثابت کرتا ہے کہ بندہ ان کے ذریعہ ترقی کرے۔خدا نے اگر یہ قانون مقرر کیا ہے کہ زمین کو ایک خاص حد