ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 54

۵۴ ملائكة الله اسباب دُور دُور سے چلے آتے ہیں۔پس جب جسمانیات میں کوئی بات بغیر سلسلہ اسباب کے نہیں ہوتی تو کیا روحانی اُمور ہی ایسے ہیں کہ ان میں اسباب کا سلسلہ نہ مانا جائے۔جب جسمانی امور کا سلسلہ چلتا ہے تو ضروری ہے کہ مشابہت کے لئے رُوحانی امور میں بھی چلے اور روحانی امور کے سلسلہ کی آخری کڑی ملائکہ ہیں۔پس رُوحانیات کے لئے ملائکہ کی ضرورت ہے۔(۲) ہم ہر چیز میں ارتقاء پاتے ہیں اور اسی مسئلہ ارتقاء کی عمومیت کو دیکھ کر سائنس دان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ جو انسان موجود ہے یہ پہلے سے ہی ایسا نہ تھا۔پہلے یہ ایک کیڑے کی شکل میں تھا پھر ترقی کر کے بڑھا پھر اور بڑھا حتی کہ موجودہ حالت کو پہنچ گیا۔مسئلہ ارتقاء کا یہ استعمال تو غلط معلوم ہوتا ہے اور کئی طرح سے رد کیا جا سکتا ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ اس مسئلہ پر غور کرنے سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے متغائر حالات میں تبدیلی یا تو مختلف مدارج کو چاہتی ہے یا وسائط کی محتاج ہے۔یکدم بالکل متفائر حالات کی طرف انتقال بالکل محال ہے۔پس ایک طرف انسان کے اندر اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کے حصول کی خواہش اور خدا تعالیٰ سے وصال کی تڑپ کا ہونا اور دوسری طرف اس کی موجودہ کثافت کا اس سے ملنے میں روک ہونا دونوں امر اس نتیجہ پر ہمیں پہنچاتے ہیں کہ انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک اور واسطہ ہونا چاہئے جو ایک طرف تو مخلوق ہو اور دوسری طرف نیک اور روحانی ہو اور اس واسطہ کو ملائکہ کہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی بلند مینار پر چڑھا مگر اتر نہ سکتا تھا۔کسی نے تیر کے ساتھ بار یک تاگے کی ریل باندھ کر تیر اس کی طرف مارا اور اس نے پکڑ لیا۔اس بار یک تاگے کو