ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 23

۲۳ ملائكة الله خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔مگر قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے کہ اس میں بدی کی قوت ہی نہیں ہے اور انسان کی نسبت ان کا دائرہ عمل محدود ہوتا ہے۔انسان حدود کو توڑ دیتا ہے مگر ملائکہ کے لئے جو حدود مقرر ہیں ، ان کو نہیں توڑ سکتے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (التحريم :) کہ ملائکہ اللہ کے حکم کو نہیں توڑتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔چھٹی بات یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ ملائکہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ ان میں ایسا مادہ ہے کہ خدا کے احکام کو پورے طور پر بجالاتے ہیں۔کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا اور بات ہوتی ہے اور اس کو پورے طور پر نہ کر سکنا اور بات۔مثلاً ایک کمزور شخص کو کہا جائے کہ فلاں چیز اُٹھاؤ لیکن وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اُٹھا نہ سکے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی۔ہاں ایک ایسا شخص جو اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہو وہ اگر اُٹھانے سے انکار کر دے تو یہ خلاف ورزی ہوگی۔فرشتوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان میں ایسی قابلیت ہوتی ہے کہ جو کام انہیں کرنے کو کہا جاتا ہے اسے وہ من حیث الافراد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں یعنی سب میں اس کے کرنے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔انسانوں کی طرح نہیں ہوتے کہ بعض آدمیوں میں حکم پورا کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور بعض میں نہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔انسان کی یہ حالت نہیں ہوتی۔وہ بعض اوقات چاہتا ہے کہ ایک کام کرے لیکن کر نہیں سکتا۔مثلاً وہ چاہتا ہے کہ کھڑا ہوکر نماز پڑھے لیکن وہ بیمار ہو تو ایسا نہیں کرسکتا۔