ملائکۃ اللہ — Page 17
۱۷ ملائكة الله اس میں شک نہیں کہ ان کا تعلق سورج سے ہے۔جیسا کہ اسلام میں سورج کا تعلق جبرائیل سے بتایا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے کہ اس کا تعلق سورج سے ہے۔جبرائیل کا تعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں سورج کہا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود پر جو کفر کے فتوے لگے ان میں ایک بات یہ بھی لکھی گئی تھی کہ آپ فرشتوں کا انکار کرتے ہیں۔حضرت صاحب نے توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام میں فرشتوں کے متعلق بحث کی ہے اور قرآن کریم سے آپ نے ثابت کیا ہے کہ ملائکہ کا تعلق اجرام سماوی سے ہے اور ان کے ذریعہ سے ان کے اثرات دُنیا میں پڑتے ہیں۔جس پر علماء نے یہ شبہ پیدا کر کے کہ آپ فرشتوں کے منکر ہیں اور ستاروں کی تاثیرات کے قائل ہیں آپ پر کفر کا فتو ی لگایا ہے۔یہ ستاروں کا مضمون ایک علیحدہ مضمون ہے۔میں اس وقت اس کے متعلق کچھ بیان کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس طرح بحث کہیں کی کہیں نکل جائے گی۔سر دست میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سب مذاہب میں فرشتوں کا خیال پایا جاتا ہے اور اسلام میں بھی جہاں سینکڑوں شرک کی باتوں کا رڈ کیا گیا ہے وہاں فرشتوں کے عقیدہ کو قائم کیا گیا ہے اور اس قدر زور کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ اگر ان کو نہ مانا جائے تو انسان کا فر ہوجاتا ہے۔اور اسلام کا سب مذاہب پر یہ احسان ہے کہ جس طرح نبیوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو اسلام نے دُور کیا ہے اسی طرح فرشتوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو بھی دُور کیا ہے۔زرتشتیوں اور یہودیوں کا خیال ہے کہ فرشتے بھی شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور ان ہی کی تقلید میں مسلمانوں نے ہاروت اور ماروت دوفرشتوں کے متعلق ہے