ملائکۃ اللہ — Page 121
۱۲۱ ملائكة الله حَافِينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِم (الزمر :۷۶ ) کہ وہ خدا کی تسبیح اور حمد کرتے ہیں۔پس تسبیح و تحمید کرنے والے کا بھی ملائکہ سے خاص تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اس کا ثبوت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ملتا ہے۔فرماتے ہیں جہاں کوئی خدا کا ذکر کر رہا ہوتا ہے وہاں ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھو کہ بالعموم میں قرآن سے استدلال کرتا ہوں اور وہی بات حدیث میں مل جاتی ہے۔جس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن سے اخذ کر کے یہ باتیں فرماتے تھے۔ہاں آپ کا علم چونکہ بہت وسیع اور نہایت کامل تھا اس لئے آپ زیادہ اعلیٰ طور پر ان باتوں کا اخراج کر لیتے تھے۔يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِرم سے میں نے تسبیح کر ناملائکہ کا کام بتا یا تھا اور حدیث سے یہ معلوم ہو گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں انہیں ملائکہ سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے اور ان سے تعلق ہو جاتا ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہاں خدا کا ذکر ہو رہا ہو وہاں فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی اس جگہ اپنا فیضان نازل کرتے ہیں۔چند سال ہوئے میں نے ذکر الہی پر تقریر کی تھی اس کے متعلق ایک صاحب نے جو غیر احمدی تھے اور ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے بتایا کہ میں فرشتوں کے فیضان کی زندہ شہادت ہوں۔ان دنوں میری آنکھیں بیمار تھیں اور میں اس دن بڑی مشکل سے دوسروں کے ذریعہ جلسہ گاہ میں گیا تھا لیکن تقریر سننے کے بعد میری آنکھیں اچھی ہوگئیں اور میں خود واپس آ گیا۔مسلم کتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار باب فضل مجالس الذكر