ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 120

۱۲۰ ملائكة الله ہیں وہ بھی ان سے برکت حاصل کر سکتے ہیں۔اور ہم تو یہاں تک دیکھتے ہیں کہ جولوگ جھوٹے طور پر خدا کی وحدانیت کی اشاعت کرتے ہیں وہ بھی فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ہندوستان میں رام موہن رائے اور پنڈت دیا نند کی قوموں کو جتنی ترقی ہوئی اتنی دوسرے ہندوؤں کو نہیں ہوئی۔وجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں خدا کی توحید کے قائل ہیں اور اس کی اشاعت کرتے ہیں۔پس توحید الہی کے متعلق غیرت رکھنے والا انسان بہت بڑی برکات ملائکہ سے پالیتا ہے۔تیسرا طریق: ملائکہ سے مشابہت حاصل کرنے کی تیسری تدبیر یہ ہے کہ انسان کے قلب میں یہ تحریک ہو کہ عفو اور درگز رکو قائم کرے اور بدظنی کو ترک کرے۔جتنی یہ عادت زیادہ ہوگی اتنی ہی ملائکہ کی تحریک زیادہ ہوگی۔دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور عفو سے کام لینا ملائکہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا (المؤمن:۸) ملائکہ مؤمنوں کے گناہوں کے لئے معافی مانگتے ہیں۔جو انسان اپنے اندر اس صفت کو زیادہ پیدا کر لیتا ہے اس کا تعلق ملائکہ سے ہو جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے ملائکہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں پس لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنا اور غیظ وغضب کا پتلا نہ بننا فرشتوں سے تعلق پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔چوکھا طریق جو ملائکہ سے مشابہت پیدا کرنے کی چوتھی تدبیر ہے یہ ہے که انسان تسبیح و تحمید کرے۔خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو یہ کام بتایا ہے کہ وَتَرَى الْمَلِئِكَةٌ مسلم - كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار باب فضل الدعاء بظهر الغيب