ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 7

ملائكة الله ہم نے مان لی تو کافی ہو جاتا ہے۔ورنہ نہ اس کے ماننے سے کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ انکار کرنے سے کوئی نقصان۔اس طرح تو ہم ہمالیہ پہاڑ پر بھی ایمان لاتے ہیں مگر چونکہ ہمالیہ پر ایمان لانے سے نہ کوئی نفع ہے اور نہ اس کا انکار کرنے سے نقصان اس لئے اسے ایمانیات میں داخل نہیں کیا گیا۔مگر ملائکہ پر ایمان لانے کو ایمانیات میں داخل کیا گیا ہے۔پس ضروری ہے کہ ان پر ایمان لانے سے بہت بڑا فائدہ ہو اور نہ ایمان لانے سے نقصان۔فرشتوں پر کیوں ایمان لائیں غرض یہ ایک نہایت ضروری سوال ہے کہ فرشتوں کو کیوں مانیں؟ ان کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ان سے ہمیں کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ اگر ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتے تعلیم لائے اس لئے ان پر ایمان لانا چاہئے تو کہا جا سکتا ہے کہ پھر ہمیں ان سے کیا تعلق ؟ اگر ان کی معرفت وحی کا آنا ہمیں معلوم نہ ہو تو ہمارے ایمان اور ہمارے عمل میں کیا کمی آجائے گی ؟ اگر یہی فرض کر لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام بلا واسطہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرماتا تھا تو اس سے کیا حرج واقعہ ہوگا؟ اس سے قرآن کریم میں تو کوئی کمی نہیں آجائے گی پھر ہم سے فرشتوں کا وجود کیوں منوایا جاتا ہے؟ اور اتنے زور سے کیوں منوایا جاتا ہے؟ کہ اگر نہ مانیں تو مسلمان ہی نہیں رہتے کافر ہو جاتے ہیں۔اس قسم کے خیالات کی وجہ سے یہ مضمون مشکل بھی ہے اور شاید بہتوں کے لئے پھیکا بھی ہو اور ان کی توجہ اس طرف قائم نہ رہے کیونکہ فرشتے ایسی چیز ہیں جو نظر نہیں آتے اور ان سے بظاہر کوئی تعلق بھی نہیں معلوم ہوتا۔مسئلہ تقدیر بھی مشکل تھا لیکن جب اس کے