ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 114

۱۱۴ ملائكة الله رکھا جاتا ہے تو رس ایک طرف نکل آتی ہے اور چھلکا دوسری طرف گر پڑتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی ایسی بات پڑتی جو پاک نہ ہوتی اس کی ناپا کی علیحدہ ہو جاتی اور باقی پاک رہ جاتی اور اسی کا نام آپ نے یہ رکھا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔غرض شیطانی تحریکوں کو بھی نیک استعمال کیا جاسکتا ہے۔اب میں آخری بات بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ فرشتہ کی تحریک کو بڑھایا کس طرح جا سکتا ہے۔اس کے لئے دیکھنا چاہئے کہ قانونِ قدرت میں ہر ایک چیز کے بڑھانے کا اصل قاعدہ کیا ہے؟ ادنی تدبر سے معلوم ہوگا کہ وہ قاعدہ یہی ہے کہ اسے عمدگی سے استعمال کیا جائے۔دیکھو جولوگ ابتداء سے ذرا ذرا سنکھیا کھانا شروع کرتے ہیں۔آخر تولہ تولہ کھا کر ہضم کر لیتے ہیں۔کوئی دوسرا اگر تھوڑا سا بھی سنکھیا کھالے تو اس کی جان نکل جائے۔مگر وہ چونکہ بڑھاتے بڑھاتے اپنی عادت بنا لیتے ہیں اس لئے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔اسی طرح جسم کی طاقت ہے۔جو لوگ ہاتھوں سے زور کا کام کرتے ہیں ان کے ہاتھ موٹے اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔جو لوگ زیادہ کھانے کی عادت ڈالتے ہیں وہ چار چار پانچ پانچ آدمیوں کی خوراک اکیلے کھا جاتے ہیں۔تو جتنا کسی چیز کا زیادہ استعمال کیا جائے اتنی ہی وہ زیادہ بڑھتی ہے، یہی حال فرشتے کی تحریک کا ہوتا ہے۔جتنی اس کی تحریک انسان زیادہ قبول کرتا جائے اور اس کو استعمال میں لائے اتنی ہی زیادہ فرشتے کی تحریک زیادہ جذب کی جاسکتی ہے۔یہاں ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جسمانی امور میں تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی زیادہ کھائے گا تو چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ آٹھ دس آدمیوں کی خوراک کھالے گا ہو یا ہزار آدمی کی خوراک نہیں کھالے گا۔کیا اسی طرح فرشتوں کی تحریک کے متعلق بھی کوئی حد مقرر ہے کہ اس سے زیادہ قبول نہیں کر سکتا۔