ملائکۃ اللہ — Page 113
ملائكة الله لفتنة الناس و ان مع كل انسان قريباً ) اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ایک ایک شیطان ہر انسان کے لئے مقرر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان نیکی کی تحریک کرتا تھا۔اگر وہ الگ وجود تھا اور اس نے بدی کی تحریک چھوڑ کر نیکی کی تحریک شروع کر دی تھی تو پھر وہ شیطان کس طرح رہا۔پھر تو وہ فرشتہ ہو گیا۔اگر کہو کہ وہ پہلے شیطان تھا لیکن جب نیکی کی تحریک کرنے لگا تو فرشتہ ہو گیا تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نیکی کی تحریک کرنے کا ذکر کرتے وقت بھی اسے شیطان ہی کہا ہے۔اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام شیطان اس کی پہلی حالت کی وجہ سے رکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس نے شیطنت کو چھوڑ دیا تھا تو یہ عظیم الشان اثر تو اس کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں کہ سلطینی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر تسلط دے دیا۔پس اس کا اسلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھا۔پھر اس کو یہ درجہ کہاں سے ملا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نیک تحریکیں کرنے لگا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ مجھے نیک تحریکیں کرتا ہے۔پس یہ معنے اس کے بالبداہت غلط ہیں۔اور اس کے اور ہی معنے ہیں جو یہ ہیں کہ وہ عام اثرات شیطان کے جو ہر ایک انسان پر پڑ رہے ہیں اور جن سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب شیطان کا کوئی ایسا اثر مجھ پر آ کر پڑتا ہے تو وہ نیکی ہو جاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے گندہ پانی جب فلٹر میں سے گزرتا ہے تو صاف ہو جاتا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر جو بُرا اثر پڑتا وہ آپ کے ذریعہ نیک ہو جاتا۔یا اس کی مثال گنے پہلینے والے بیلنے کی ہے کہ جب اس میں گنا