ملائکۃ اللہ — Page 112
۱۱۲ ملائكة الله انہیں قبول کرے یا نہ کرے لیکن پڑیں گے ضرور۔دوسرے خاص اثرات ہوتے ہیں جو انہی لوگوں پر پڑتے ہیں جو شیطان سے محفوظ نہیں ہوتے یا اس کے زیر اثر ہو چکے ہوتے ہیں۔ان دونوں قسم کے اثرات کو جو شخص قبول کر لیتا ہے وہ محفوظ نہیں ہوتا اور جو قبول نہیں کرتا وہ ان سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔شیطان بداثر ڈالتا ہے لیکن وہ اسے نیک بنالیتا ہے اور بجائے شیطان سے بدی کی تعلیم حاصل کرنے کے اس سے نیک کام لے لیتا ہے۔اس کا طریق یہ ہے کہ شیطان کا حملہ جذبات کے ذریعہ ہوتا ہے۔شیطان ان کو ابھار دیتا ہے اور وہ بدی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر انسان ارادہ کی قوت کو بڑھالے تو جتنی قوت ارادی بڑھ جائے گی اتنا ہی زیادہ وہ نیکی میں بڑھ جائے گا۔جب قوتِ ارادی کم ہوتب ہی انسان پر شیطانی تحریک کا اثر ہوتا ہے۔مثلاً ناجائز طور پر شہوت پیدا ہوتی ہے یا مال کی محبت پیدا ہوتی ہے۔اب اگر قوت ارادی کم ہوگی تو ان جذبات کو انسان غلط طور پر استعمال کرے گا۔لیکن اگر قوت ارادی زیادہ ہوگی تو ان کو اپنی جگہ اور محل پر عمدہ طریق سے استعمال کرے گا۔تو قوت ارادی کے بڑھانے سے انسان شیطان کی بری تحریکوں سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے شیطان مقرر نہیں۔صحابہ نے پوچھا کیا آپ بھی ؟ آپ تو محفوظ ہوں گے؟ فرمایا ہاں میں بھی ایسا ہی ہوں مگر مجھے خدا نے طاقت دی ہے اور میں شیطان پر غالب آ گیا ہوں۔جب مجھے وہ کوئی تعلیم دیتا ہے تو نیکی کی ہی دیتا ہے برائی کی نہیں دیتا۔(مسلم۔كتاب صفة القيامة و الجنة والنار باب تحريش الشيطان و بعثه سراياه