ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 110

ملائكة الله ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ایسی شیطانی تحریکوں پر مؤمن کو چاہئے کہ اپنے نفس سے کہے کہ چاہے لوگ کچھ کہیں میں تو شریعت کے حکم کو ضرور بجالاؤں گا اور اس قسم کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کرے اور خدا تعالیٰ کا جو حکم ہوا سے بجالائے۔ان صورتوں میں یہ بات خوب اچھی طرح یا درکھنی چاہئے کہ مؤمن کا طریق یہی ہے کہ وہ ایسی تمام صورتوں میں یہ احتیاط کر لیا کرے کہ جس نیکی میں دیکھے کہ اس کی توجہ نہیں پیدا ہوتی اس کی وجہ شیطانی تحریک سمجھے اور ایسی بات پر اور زیادہ زور دے، مثلاً چندہ دیتا ہے لیکن تبلیغ نہیں کرتا اور خیال پیدا ہوتا ہے کہ تبلیغ کرنا ضروری نہیں تو تبلیغ پر زیادہ زور دے۔جس طرح لڑکے جس مضمون میں کمزور ہوتے ہیں اسی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔اسی طرح تم بھی جس نیکی میں کمزوری پاؤ اس پر زیادہ زور دو اور جو کی اس میں ہواس کو پورا کرو۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ تحریک شیطانی سے بچنے کا کیا طریق ہے۔جب شیطان کسی نیکی کی تحریک کرے اور غرض اس کی یہ ہو کہ کسی بڑی نیکی کو چھڑا کر بدی کرائے تو ایسے موقع پر موازنہ کر لینا چاہئے اور جس نیکی سے شیطان باز رکھنا چاہے وہ بھی کر لی جائے اور جو نیکی کرائے وہ بھی کر لینی چاہئے۔مثلاً ذکر کرنے میں انسان کمزور ہے اس کے متعلق شیطان نے تحریک کی تو یہ بھی کرے اور ساتھ ہی فرائض میں بھی کمی نہ آنے دے ان کو بھی پورا کرے اس طرح شیطان اس سے مایوس ہو جائے گا اور پھر اس قسم کی تحریک کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔حضرت مسیح موعود سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کی صبح کے وقت آنکھ نہ کھلی اور جب کھلی تو دیکھا کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے اس پر وہ سارا دن روتے رہے۔