ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 104

۱۰۴ ملائكة الله نیکی کرائی جاتی ہے۔شاہ ولی اللہ صاحب اپنے خاندان کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کی ایک عورت بہت ذکر اللہ کیا کرتی تھیں اور ان کے ایک بھائی ان کو اس امر سے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ نماز زیادہ پڑھا کرو۔وہ جواب دیتیں کہ مجھے اس میں بہت لطف آتا ہے۔اس پر وہ کہتے تھے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔آخر بڑھتے بڑھتے سنتیں اور پھر فرض شیطان چھڑوائے گا۔کچھ مدت کے بعد بہن نے بھائی کو بتایا کہ واقع میں اب ایسا ہونے لگا ہے کہ سنتوں میں بھی مزا جاتا رہا ہے آپ علاج بتا ئیں۔انہوں نے ایک لاحول پڑھنے کے لئے کہا۔آخر ان کو کشف میں ایک بند ر نظر آیا جس نے کہا میں شیطان ہوں اگر تم لاحول نہ پڑھتی اور تمہارے بھائی تم کو نہ سمجھاتے تو میں نے فرض بھی چھڑوا دینے تھے۔غرض شیطان کی تحریک کبھی نیکی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے لیکن اس میں قدر مراتب کا خیال نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کے ہر قانون میں موازنہ ہوتا ہے اور ہر بڑی چیز کے مقابلہ میں چھوٹی قربان ہوتی ہے۔لیکن جہاں بڑی چیز چھوٹی کے لئے قربان ہونے لگے وہاں سمجھ لو کہ یہ شیطانی تحریک ہے یہ طریق وسوسہ کا بہت عام ہے۔چنانچہ بعض لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے پہلے تعلیم ہونی چاہئے اور پھر تبلیغ کا کام شروع کرنا چاہئے۔اس لئے جتنا روپیہ جمع ہو سکے وہ سب تعلیم پر خرچ کرنا چاہئے۔اس سوال کا جواب دینے والا یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ تعلیم اچھی نہیں اس لئے اس کا انتظام نہیں ہونا چاہئے اس لئے وہ بالعموم اس سوال سے متاثر ہو جاتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ایک وسوسہ ہے کیونکہ تعلیم بطور تزئین کے ہے جو دین کے لئے ایک زائد چیز ہے۔بے شک اس