ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 99

۹۹ ملائكة الله جاتا ہے کہ لوگوں کے اکثر کام نیکی پر زیادہ مشتمل ہوتے ہیں بنسبت بدی کے۔اور بدی صرف اس لئے زیادہ نظر آتی ہے کہ وہ گھناؤنی کئے ہونے کے سبب نمایاں نظر آتی ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک وقت سب لوگ جہنم سے نکل آئیں گے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحه ۱۰۲ حاشیه ) ایک شخص جو چوری کرتا ہے اسے بڑا بد معاش اور بُرا انسان کہا جائے گا مگر اور کئی عیب ہوں گے جو اس میں نہیں ہوں گے اور کئی اچھی باتیں ہوں گی جو اس میں پائی جاتی ہوں گی۔گویا اس میں کئی نیکیاں ہوں گی اور چوری کرنا ایک برائی ہوگی۔اور کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس میں برائیاں زیادہ ہوں اور ان کے مقابلہ میں نیکیاں کم ہوں۔تو نیکی دُنیا میں زیادہ ہوتی ہے اور برائی کم۔مگر چونکہ برائی پر ہر ایک کی نظر پڑتی ہے اس لئے وہ نمایاں طور پر نظر آجاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کا صرف ناک کٹا ہو اور باقی اعضاء بالکل درست ہوں تو اس کے ناک پر ہی نظر پڑے گی اور باقی اعضاء کی خوبصورتی کوئی نہ دیکھے گا۔تو نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن لوگوں کی نظر بُرائی پر پڑتی ہے اس لئے اسی کو زیادہ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ فرشتہ دل میں تحریک کس طرح کرتا ہے اور اس کے تحریک کرنے کا کیا ذریعہ ہے؟ اس کی تحریک کرنے کے متعلق اپنے تجربہ سے اور خدا کے ان مقرب لوگوں کے تجربہ سے جنہیں علم دیا گیا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان کوئی نیک کام کرتا ہے تو ملک اس کے دل میں اس کام کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور جب کوئی انسان ارادہ کر لیتا ہے کہ میں نیکی کے اس راستہ پر چلوں گا تو ملک ہر موقع کے آنے پر اسے اطلاع دیتا رہتا ہے کہ موقع آگیا ہے اس سے فائدہ اُٹھالو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک انسان