ملائکۃ اللہ — Page 87
۸۷ ملائكة الله انسان سنتا ہے کہ فلاں کے پاس بہت مال ہے تو چوری کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔اگر وہ نہ سنتا تو یہ خیال بھی اسے پیدا نہ ہوتا۔اسی طرح بعض خیال چھونے کے ذریعہ سے، بعض سونگھنے کے ، بعض چکھنے کے ذریعہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔تو بدی یا نیکی کی تحریکیں انہی ذرائع سے پیدا ہوتی ہیں اور ان ہی راستوں کے ذریعہ شیطان اس کے اندر داخل ہوتا ہے ان پر ایک ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو حفاظت کرتا رہتا ہے اور کسی بری تحریک کو اندر نہیں جانے دیتا۔لیکن خاص اور عام لوگوں کے ان محافظ فرشتوں میں ایک فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ عام کے محافظ تو صرف بُڑی تحریکوں کو اندر جانے سے روکتے ہیں لیکن خاص کے محافظ بڑی تحریکوں کو بھی نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں۔مثلاً ایسا انسان جب سنتا ہے کہ فلاں دولت مند ہے تو بجائے اس کے کہ اس کے دل میں یہ تحریک ہو کہ ڈاکہ مار کر اس کا مال حاصل کرے اس کے دل میں یہ تحریک ہوتی ہے کہ خدا اسے اور بھی دے اور یہ نیک کاموں میں صرف کرے۔غرض اس طرح ان کے اندر ہر تحریک نیک ہو کر جاتی ہے مگر خدا کے نبیوں کے ساتھ ان فرشتوں کے یہی دو کام نہیں ہوتے کہ اول کسی بڑی تحریک کو اندر نہیں جانے دیتے اور دوسرے اس کو نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں بلکہ ان کے دل میں پیدا ہونے والی تحریکوں کے باہر بھی نیک اثرات پیدا کرتے ہیں۔خدا کے نبی کے بات کرتے وقت ، اس کے کسی کی طرف دیکھتے وقت، کسی کو چھوتے وقت، غرضیکہ ان کی ہر حالت میں فرشتے نیک اثر پیدا کرتے رہتے ہیں۔شاید کوئی کہے کہ کسی کے مال کو دیکھ کر جب کسی کے دل میں چوری کا خیال پیدا ہوتا ہے تو یہ اس کے اندر پیدا ہوتا ہے، باہر نہیں پیدا ہوتا۔اس لئے فرشتے اس کے متعلق