ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 74

۷۴ ملائكة الله وہ اپنا عکس ڈالتا ہے تو جس قدر انسان ایسے ہوئے ہیں کہ ان پر جبرائیل کا عکس پڑتا تھا وہ سب ایک جیسے ہونے چاہئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی ان سب کا ایک ہی درجہ ہونا چاہئے۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ عکس مختلف ہوتے ہیں اور اس کے لئے یہی نہیں دیکھا جاتا کہ عکس کس کا ہے؟ بلکہ یہ بھی دیکھناضروری ہے کہ عکس کس پر پڑا ہے۔لوہے کی چادر پر سورج کا جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا ہوگا اور شیشے پر جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا۔بیشک جبرائیل ایک ہی تھا اور اس کا عکس بھی ایک ہی ہے۔مگر آگے جتنے جتنے قلب مصفی تھے اتنی ہی اس کی شکل اعلیٰ درجہ کی دکھائی دی۔یہی وجہ ہے که با وجود اس کے کہ جبرائیل ایک ہی تھا آگے جن پر عکس پڑا وہ الگ الگ درجہ کے تھے۔موسی موسیٰ ہی تھا اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) محمد ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے اعلیٰ رتبے اور درجہ والے قرار پائے کہ ایک ہی نے سب نبیوں پر عکس ڈالا ور نہ اگر عکس ڈالنے والے الگ الگ ہوتے تو کہا جاتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عکس ڈالنے والا چونکہ اعلیٰ درجہ کا تھا اس لئے آپ کو اعلیٰ درجہ حاصل ہوا اور دوسرے انبیاء پر عکس ڈالنے والے ایسے نہ تھے اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کم درجہ پر رہے۔اگر ان پر بھی وہی عکس ڈالتا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالا تو وہ اسی درجہ کو حاصل کر لیتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہو ا۔لیکن اب چونکہ ایک ہی عکس ڈالنے والا ہے اس لئے ان کے مدارج میں جو فرق ہے وہ ان کے اپنے اپنے قلب کی صفائی سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ ایک ہی چیز جب مختلف چیزوں پر برا براثر ڈالے تو ان کے اپنے اپنے ظرف کے مطابق نتیجہ مرتب ہوگا۔جبکہ جن پر عکس