ملائکۃ اللہ — Page 66
។។ ملائكة الله رہا تھا کہ ہر چیز کے باریک در بار یک اسباب ہیں۔خوردبین نے اب بتایا ہے کہ طاعون کی گلٹی یونہی نہیں ہوتی بلکہ اس کا باعث کیڑے ہوتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہوتی ہے۔پھر ان کیڑوں کے پیدا ہونے کے اور اسباب ہیں۔پھر ان کے اور اسباب ہیں۔اسی طرح اسباب در اسباب ہیں۔انہی اسباب کا آخری اور انتہائی سبب ملائکہ ہیں اور ان کے اوپر خدا ہے۔تو ملائکہ پر ایمان لانے سے اسباب کی آخری کڑی پر ایمان حاصل ہوتا ہے اور اس سے خدا پر ایمان حاصل ہوتا ہے اور ملائکہ پر ایمان لانے کی یہی وجہ ہے۔پھر ایمان قرآن کریم میں اور معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ماننے کو بھی ایمان کہا جاتا ہے لیکن صرف کسی وجود کا مانناہی نہیں ، اس کی تحریکات کو ماننا بھی ایمان کہلاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۵۷) جو شخص طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے کہ جو ٹوٹتا ہی نہیں اور اللہ سنے والا جاننے والا ہے۔طاغوت شیطان کو کہتے ہیں۔اب اگر انکار کے معنے کسی شئے کی ذات کے انکار ہی لئے جاویں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہلاکت سے وہی شخص بچتا ہے جو شیطان کے وجود کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار حالانکہ یہ معنی سراسر غلط ہیں۔کیونکہ قرآن کریم صاف طور پر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے اور شیطان کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے۔پس اقرار سے اور ایمان سے اس آیت میں یہی مراد ہے کہ شیطان کی باتوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو مانتا ہے۔اب اگر یہی معنی ایمان کے ملائکہ کے متعلق