ملائکۃ اللہ — Page 58
۵۸ ملائكة الله نظر آتی ہے؟ یہی کہا جائے گا کہ یہ چھونے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پھر میں کہتا ہوں خوشبو یا بد بوکسی کو نظر آتی ہے؟ یہی کہا جائیگا کہ یہ ناک سے تعلق رکھتی ہیں۔ان جوابات سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے معلوم کرنے کا یہی ذریعہ نہیں کہ وہ نظر آئے بلکہ اور حواس بھی ہیں۔جن سے ان کا ہو نا معلوم کیا جاتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں ہوا کو کسی نے دیکھا ہے۔جب ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہوا ہلا رہی ہے ورنہ نظر نہیں آتی۔اسی طرح اور بہت سی طاقتیں ہیں۔مثلا قوت حافظہ ہے۔کون ہے جو اس کو چکھ کر یا سونگھ کر یا دیکھ کر مانتا ہے؟ اس کے اثرات سے ہی اس کا پتہ لگایا جاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کو دیکھنے کے بغیر اور ذرائع سے مانا جاتا ہے اور ان کے اثرات کو دیکھ کر ان کو مانا جاتا ہے۔اسی طرح ملائکہ بھی اثرات کے ذریعہ مانے جاسکتے ہیں یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نظر ہی آئیں۔ان کے اثرات سے ان کا پتہ لگ جاتا ہے۔دوسرا اعتراض ایسا ہے جسے علماء کا اعتراض کہا جا تا اور بڑا پکا قرار دیا جاتا ہے لیکن میں کہتا ہوں یہ ایسا جاہلانہ اعتراض ہے کہ اس سے بڑھ کر جہالت اور نہیں ہوسکتی۔وہ اعتراض یہ ہے کہ کہا جاتا ہے، کیا خدا ملائکہ کا محتاج ہے؟ کہ ان کو اس نے بنایا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا ملائکہ کا خالق ہے اور کسی چیز کا خالق اس کا محتاج نہیں ہو ا کرتا۔خدا تعالیٰ کو ملائکہ کا محتاج تب کہا جاتا جب خداملائکہ کوکسی اور جگہ سے لا تا لیکن خدا تو ملائکہ کوخود پیدا کرتا ہے پھر ان کا محتاج کیونکر ہوا ؟ احتیاج إلی الغیر ہوا کرتی ہے نہ کہ اپنے قبضہ اور اختیار کی احتیاج ہوتی ہے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو خود پیدا کیا ہے اس لئے وہ ان کا محتاج نہیں ہے اور یہ جاہلانہ اعتراض ہے۔