ملائکۃ اللہ — Page 55
۵۵ ملائكة الله اس نے نیچے لٹکا دیا اور نیچے والے نے اس کے ساتھ ذرا موٹا تا گا باندھ دیا جسے اس نے او پر کھینچ لیا۔پھر اس کے ساتھ اور زیادہ موٹا تا گا باندھا گیا حتی کہ ایک زنجیر با ندھی گئی اور وہ اس کے ذریعہ نیچے اُتر آیا۔اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ بندہ کا تعلق خدا سے ہوتا جاتا ہے۔وہ درمیانی کڑی ہیں جن کے ذریعہ بندہ کا خدا سے تعلق ہوتا ہے اور وہ اس کے فیوض کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ملائکہ کا وجود دضروری ہے۔تیسری ضرورت ملائکہ کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہم ظاہری عالم میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی تربیت کے لئے دو سلسلے ہیں ایک وہ جو بغیر انسان کے علم اور اس کے دخل کے اس کا کام کر رہا ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَرَتْ بِأَمْرِه (النحل: ۱۳) کہ خدا کے حکم کے ماتحت رات اور دن ،سورج اور چاند اور ستارے بغیر تمہاری کسی محنت کے تمہارے لئے کام کر رہے ہیں۔مستر عربی میں اس کو کہتے ہیں جس پر کچھ خرچ نہ ہو اور وہ کام دے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تمہارے لئے رات اور دن ، سورج اور چاند اور ستاروں کو کام میں لگا دیا ہے تمہیں ان کے لئے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔رات آتی ہے اور دن چڑھتا ہے لیکن تم اس کے لئے کوئی محنت نہیں کرتے اور تمہارا ان پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔اسی طرح سُورج دھوپ نازل کرتا ہے۔چاند روشنی کرتا ہے۔ستارے طرح طرح کے اثرات ڈال رہے ہیں۔لیکن تمہیں ان کے لئے کچھ نہیں کرنا پڑتا یہ انتظام جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ