ملائکۃ اللہ — Page 47
۴۷ ملائكة الله فَلْيَعْلَمُ أَنَّهُ مِنَ اللهِ سُبْحَانَهُ فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَلَمَّةٌ مِّنَ الْعَدُةِ اِيْعَادُ بِالشَّرِ وَتَكْذِيبُ بِالْحَقِّ وَنَهَى عَنِ الْخَيْرِ فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِن الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔فرماتے ہیں انسان کے دل میں دو تحریکیں ہوتی ہیں۔ایک فرشتے کی طرف سے اس میں نیک باتوں کی تحریک ہوتی اور سچائی کی تصدیق ہوتی ہے پس جس کے دل میں ایسی تحریک ہو جائے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس وہ اللہ کا شکر کرے۔اور ایک عدو کی طرف سے اس میں بڑی باتوں کی تحریک ہوتی ہے اور سچائیوں کا انکار ہوتا ہے اور نیک باتوں سے روکا جاتا ہے۔پس جس کے دل میں ایسی تحریک ہو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے شیطان سے۔یہ میں نے ملائکہ کی حقیقت اور ان کے کام بتائے ہیں۔ان سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ ملائکہ یونہی نہیں بلکہ ان کا انسان کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔اس لحاظ سے یہ معمولی مسئلہ نہ رہ گیا جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں۔بلکہ معلوم ہوا کہ ملائکہ کا وجود بھی ایک نہایت کارآمد چیز ہے۔کیا انسان ملائکہ کونفع پہنچا سکتا ہے؟ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ملائکہ کو انسان بھی کوئی فائدہ پہنچا تا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق جہاں تک میری تحقیق ہے یہی معلوم ہوتا ہے اور میرا قرآن اور حدیث سے استنباط ہے کہ اور تو کسی رنگ میں انسان ملائکہ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا البتہ ان کے مدارج کی ترقی کے لئے دُعا کر سکتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کے پاس فرشتے آئے اور آکر سلام کہا تو حضرت ابراہیم نے بھی آگے سے ان کو جواب دیا۔اگر ملائکہ کو اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکتا تو وہ سلام کا جواب نہ دیتے کیونکہ سلام سلامتی کی دُعا ہے