ملائکۃ اللہ — Page 33
۳۳ ملائكة الله قُلْ يَتَوَفكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وَكُلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ (السجدة:١٢) کہ تمہاری روح قبض کرتا ہے موت کا فرشتہ جس کے سپر دتمہاری جان نکالنے کا کام کیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔تیسرا کام فرشتوں کا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شریر لوگ جونبیوں کا مقابلہ کرتے ہیں ان پر عذاب لاتے ہیں۔وہ فرشتے جب شریروں سے ملتے ہیں تو ان میں ایسی میگنیٹک طاقت پیدا ہوتی ہے کہ شریر جل جاتے ہیں۔جیسے پٹرول کے پاس آگ جلاؤ تو اسے آگ لگ جاتی ہے اسی طرح شریر پٹڑول کی طرح ہوتے ہیں اور ملائکہ آگ کی طرح۔جب ان کے ساتھ لگتے ہیں تو شریر جل جاتے ہیں اور جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تو انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَئِكَةُ أَوْ يَأْتِي رَبُّكَ أَوْ يَأْتِي بَعْضُ ايْتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ أَيْتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ أُمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي ايْمَانِهَا خَيْرًاO (الانعام : ۱۵۹) کیا یہ اس بات کی انتظار کرتے ہیں کہ ملائکہ آجائیں۔اگر وہ آگئے تو ادھر وہ آئیں گے اُدھر یہ تباہ ہو جائیں گے۔وہ ان کے لئے چنگاری ہیں اور یہ ان کے سامنے بارود۔چوتھا کام ملائکہ کا یہ ہے کہ مؤمنوں کی مدد کرتے ہیں۔کافروں کے لئے تو وہ چنگاری ہیں کہ ادھر وہ قریب ہوئے اور اُدھر وہ جلے لیکن مؤمن ان سے مدد لیتے اور وہ انہیں مدد دیتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا