ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 32

ملائكة الله یہ کہنا غلطی ہے کہ خدا کی صفات تو تھوڑی ہیں پھر یہ چھ سوصفات کے کیونکر مظہر ہوئے؟ خدا تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں اور چھ سو تو صرف وہ ہیں جو انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ایک نہایت لطیف بات لکھی ہے جو یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل سے زیادہ تھا اور یہ بالکل درست بات ہے۔وجہ یہ کہ اور ملائکہ بھی آپ کی تائید میں تھے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفات کے فرشتے تھے۔تو معلوم ہوا کہ ملائکہ مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔اور اجنحہ کے معنے پر نہیں بلکہ صفات کے ہیں جو اُن میں پائی جاتی ہیں۔یہ تو وہ باتیں ہیں جن سے ملائکہ کے متعلق اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کیسی مخلوق ہیں۔اس بیان سے بعض کو ملک کے لفظ کے ساتھ اس کی کچھ کچھ صفات کا پتہ بھی لگ گیا ہو گا۔اب میں ان کے کام بتا تا ہوں۔ملائکہ کے کام ملائکہ کا ایک کام جو بہت بڑا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کلامِ الہی لاتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلْئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ (الحج: ۷۶) اللہ تعالیٰ ملائکہ اور انسانوں سے رسولوں کو چلتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کا ایک کام خدا کا کلام پہنچانا ہے۔دوسرا کام ملائکہ کا جان نکالنا ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔