ملائکۃ اللہ — Page 25
۲۵ ملائكة الله آٹھویں بات یہ ہے کہ ان کی تعداد انسان کے لئے غیر محدود ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَط ( المدثر : ٣٢) ملائکہ کی تعدادخدا ہی جانتا ہے اور کوئی معلوم نہیں کرسکتا۔نویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں افسر ماتحت بھی ہوتے ہیں یہی نہیں کہ ایک بڑا ہے اور دوسرا چھوٹا مگر اپنے اپنے کام اور جگہ پر سب مستقل ہیں بلکہ وہ افسر اور ماتحت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔قُلْ يَتَوَفكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وَكُلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ (السجده: ١٢) کہہ دے کہ تمہاری روح قبض کرے گاموت کا فرشتہ جس کے سپر دتمہاری جان نکالنے کا کام کیا گیا ہے۔پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے:۔وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَرَتِ الْمَوْتِ وَالْمَلْئِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا انْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللهِ غَيْرَ الْحَقِّقِ وَكُنْتُمْ عَنْ ايَتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ (الانعام : ۹۴) یعنی اور کاش کہ تو دیکھے اس گھڑی کو جب کہ ظالم موت کی تکلیف میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو ان کی طرف دراز کئے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جانوں کو۔آج کے دن تم رسوائی کا عذاب دئے جاؤ گے۔یہ سبب تمہارے اللہ تعالیٰ کے متعلق نادرست باتوں کے کہنے کے اور بہ سبب اس کے نشانات سے تکبر کر کے اعراض کرنے