ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 24

۲۴ ملائكة الله ساتویں بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اردگرد کے اثرات کو قبول نہیں کرتے۔باقی مخلوق زبر دست سے زبردست ہو تو بھی اثر قبول کرتی ہے۔ہاں یہ ہوتا ہے کہ بعض اثرات کو قبول کرتی ہے اور بعض کو نہیں بھی قبول کرتی۔مثلاً انبیاء ہیں یہ نیکی کے اثر کو قبول کرتے ہیں۔یا لڑائی ہو اور وہ اس میں شامل ہوں تو بشریت کے لحاظ سے ان پر بھی اثرات پڑیں گے لیکن نبی بُرے اثرات سے محفوظ ہوتے ہیں۔مگر فرشتے ہر رنگ میں محفوظ ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔عَلَيْهَا مَلْئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ (التحريم :) ملائکہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غلاظ اور شداد ہوتے ہیں۔دوسری کوئی چیز ان پر اثر نہیں ڈال سکتی۔ہاں ان کو جس چیز پر اثر ڈالنے کے لئے کہا جائے اس پر ضرور ڈال دیتے ہیں۔یہ طاقت انسان میں نہیں ہوتی۔بعض باتوں میں ہوتی ہے اور بعض میں نہیں ہوتی۔یعنی بعض صفات میں انسان بھی ایسا ہوتا ہے مگر من کل الوجوہ نہیں ہوتا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:- مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح: ٣٠) کہ مؤمن بھی اشداء ہوتے ہیں مگر کفار پر۔آپس میں وہ ایک دوسرے کا اثر قبول کرتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے:- يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبة: ۷۳) اے نبی ! کفار اور منافقین کا مقابلہ کرو مگر ان کا اثر نہ قبول کرو۔تو مؤمنوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالتے بھی ہیں اور ان کا اثر قبول بھی نہیں کرتے مگر بعض امور میں اور ملائکہ من کل الوجوہ ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی اثر قبول نہیں کرتے۔