ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 18

۱۸ ملائكة الله سمجھ رکھا ہے کہ انہیں شیطان کے پھندے میں پھنس جانے کی وجہ سے اس وقت تک بابل کے کسی کنویں میں الٹا لٹکایا ہوا ہے۔(تفسیر ابن كثير سورة البقرة زير آيت واتبعوا ما تتلوا الشيطين على ملك سليمن، لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں کرتے۔چنانچہ آتا ہے۔لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحريم :) اب جبکہ یہ معلوم ہو گیا کہ فرشتوں کا خیال ایک ایسی بات ہے جس کے متعلق سب قوموں کا اتفاق ہے تو ہر ایک سنجیدہ آدمی کو چاہئے کہ سوچے۔یہ کوئی بہت ہی بڑی اور اہم بات ہوگی تبھی سب مذاہب کی کتب میں ان کا ذکر ہے اور قرآن سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتنا پرانا خیال ہے کہ حضرت نوح کے زمانہ میں بھی پایا جاتا تھا۔حضرت نوح کے مخالفین کا قول اللہ تعالیٰ نقل فرماتا ہے کہ فَقَالَ الْمَلَو الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُرِيدُ ان يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لاَنْزَلَ مَلَئِكَةً مَّا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الأولين (المؤمنون:۲۵) یعنی حضرت نوح کے منکروں کے سرگروہوں نے کہا۔یہ شخص تو تمہارے جیسا ایک آدمی ہے جو تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور اگر خدا کا منشاء ہوتا تو وہ فرشتے اتارتا۔ہم نے تو ایسی بات پہلے بزرگوں کے حق میں نہیں سنی ( یعنی ان میں رسول آیا کرتے تھے۔) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ اعتراض کیا گیا ہے:۔