ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 16

۱۶ ملائكة الله خدا تعالیٰ سے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو بچاؤں۔خدا تعالیٰ نے کہا نہیں تمہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ابراہیم بھی زمین میں ایک ہی ہے اور میں بھی ایک ہی ہوں اس لئے میں ہی اسے بچاؤں گا یہ وہی بات ہے جو ہمارے ہاں ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیل ان کے پاس آیا اور کہا مجھ سے کچھ مانگ لو۔انہوں نے کہا تم سے میں کچھ نہیں مانگتا۔اس پر اس نے کہا پھر خدا سے مانگو۔انہوں نے کہا خدا سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا وہ خود نہیں دیکھتا کہ میری کیا حالت ہے؟ طالمود میں آتا ہے کہ جبرائیل کو خدا نے کہا کہ تو نہیں میں ابراہیم کو بچانے کے لئے جاؤں گا مگر میں تیری اس نیکی کو ضائع نہیں کروں گا۔آئندہ ابراہیم کی اولاد میں سے ایک کو بچانے کے لئے تجھے اجازت دوں گا۔چنانچہ دانیال کے وقت جو لوگ آگ میں ڈالے گئے تو اس وقت خدا نے جبرائیل کو ان کے بچانے کی اجازت دی اور اس نے انہیں بچایا۔غرض یہودیوں میں بھی شروع سے لے کر آخر تک فرشتوں کا ذکر چلتا ہے اور انہیں خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔ہندو مذہب میں ملائکہ کا ذکر اسی طرح ہندوؤں میں بھی فرشتوں کا ذکر پایا جاتا ہے ورونہ وغیرہ نام آتے ہیں۔عام لوگ ان کو ایسی روحیں سمجھتے ہیں جن کی پوجا کرنی چاہئے۔مگر دراصل یہ فرشتے تھے جو خدا کا کلام لاتے تھے کیونکہ دو ہو مانہ اور ورونہ کا کام ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔وو ہو مانہ کا تعلق بھی سورج سے بتاتے ہیں اور ورونہ کا بھی سورج سے ہی۔مگر غلطی سے یہ سمجھا جانے لگا کہ چونکہ سورج سے ان کا تعلق ہے اس لئے سورج خدا ہے اور اس طرح سورج کو خدا ماننے لگ گئے۔