ملائکۃ اللہ — Page 12
۱۲ ملائكة الله نام جو مسلمانوں میں ہیں آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان کے کام بھی آپس میں ملتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خدا دو ہیں۔ایک تاریکی کا اور ایک ٹور کا۔ٹور کے خدا کی یہ منشاء ہے کہ ظلمت کے خدا کو کمزور کر دے۔اور کہتے ہیں ایک وقت آئے گا جب ظلمت کا خدا کمزور ہو جائے گا نیکی کے خدا کو یزدان اور بدی کے خدا کو اہرومانہ اور بالعموم اہرمن کہتے ہیں۔یعنی تاریکی کا آدمی۔اس نام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے معنے شیطان تھے خدا نہ تھے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں یہ بدی کا خدا ہے اور یہی بدیاں کراتا ہے۔زرتشتیوں کی مذہبی زبان اوستا میں بڑے فرشتوں کو امیشیا کہتے ہیں جو کہ امیش سے نکلا ہے جس کے معنے غیر فانی کے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے غیر فانی ہوتے ہیں۔جس طرح انسانی روح فنا سے محفوظ رکھی گئی ہے۔اسی طرح ان کو بھی ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی ہے۔زرتشتیوں کا عقیدہ ہے کہ فرشتے تمام نیکیوں اور مذہب کا سر چشمہ ہیں اور اصولاً خدا تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہزاروں سال کی ترقی کے بعد اپنے موجودہ درجہ تک پہنچے ہیں۔اور وہ فرشتوں کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ وہ لاثانی موتی ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں لیکن ہمیں نفع رساں ہیں۔وہ جواہر نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ ان کی ہتک ہوگی۔وہ پھول نہیں جو درختوں پر لٹکے ہوں بلکہ وہ ستاروں کی طرح ہیں جو سورج کے گرد گھوم رہے ہوں وہ خدا کے لئے زینت نہیں بلکہ اس کی ذات کے مظہر ہیں۔زرتشتی کتب میں سب سے بڑے فرشتہ کا نام دوہو ماناح لکھا ہے۔اسے