ملائکۃ اللہ — Page 103
۱۰۳ ملائكة الله رئیس نے گالی دے کر کہا میں خدا اور رسول کو ہی نہیں مانتا وہ کیا ہوتے ہیں؟ حضرت خلیفہ اول نے اپنے داماد کو کہا تو نے اچھی نصیحت کی ہے کہ اسے کافر بنادیا۔غرض ایک تحریک بظاہر نیک معلوم ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بد نکلتا ہے۔یہ تحریک ملک کی طرف سے نہیں ہوتی۔ملک وہی تحریک کرے گا کہ جس کا نتیجہ بھی نیک ہی ہوگا۔فرشتہ کی تحریک چونکہ خدا تعالیٰ کی تحریک کے ماتحت ہوتی ہے اس لئے وہ بدنتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔پس کسی تحریک کے پیدا ہونے پر جہاں یہ دیکھ لو کہ نیک ہے وہاں یہ بھی دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ بھی نیک ہے یا نہیں۔اگر نتیجہ بد ہو تو سمجھ لو کہ شیطان کی طرف سے ہے ملک کی طرف سے نہیں۔ہاں اگر نتیجہ نیک ہے تو ملک کی طرف سے ہوگی۔دوسرا طریق شیطان اور ملک کی تحریک میں موازنہ کرنے کا یہ ہے کہ فرشتے کی تحریک میں موازنہ ہوتا ہے لیکن شیطان کی تحریک ایسی نہیں ہوتی۔شیطان ایک نیکی کراتا ہے لیکن اس کی وجہ سے اس سے بڑی نیکی کو چھڑانا اس کے مد نظر ہوتا ہے۔مثلا نماز کی جماعت ہو رہی ہے ادھر خیال پیدا ہوتا ہے کہ نفل پڑھیں، اب اگر جماعت کے چھوٹ جانے کی پرواہ نہ کی جائے اور نفل پڑھے جائیں تو یہ شیطانی تحریک ہوگی کیونکہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے ترک کر دیا گیا۔سرسید احمد صاحب کو جب کہا گیا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی دین ہی کا ہے جو میں کرتا ہوں ان کے کام کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس میں فنا ہو گئے ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس کام کو بدی سمجھ کر کرتے تھے۔نیک سمجھ کر ہی کرتے تھے مگر چھوٹی نیکی پر انہوں نے بڑی کو قربان کر دیا۔اس لئے یہ کام ان کا فرشتے کی تحریک سے نہیں کہلا سکتا۔غرض بعض دفعہ شیطانی تحریک بھی نیک ہی ہوتی ہے مگر بڑی نیکی کو چھڑ ا کر چھوٹی