ملائکۃ اللہ — Page 100
ملائكة الله کو مجبور کر کے وہ کام کراتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے اطلاع دیتا رہتا ہے۔دوسرا ذریعہ ملک کے تحریک کرنے کا یہ ہے کہ علم کی زیادتی کرتارہتا ہے۔اس سے انسان کو نیکی کرنے کی تحریکیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ یہ بھی نیکی ہے اسے کرلوں۔یہ بھی نیکی ہے اس کو عمل میں لے آؤں۔مگر اصل منبع نیکی کا قلب ہی ہوتا ہے اسی پر ملک روشنی اور پر تو ڈالتا ہے اور اس کا کام ان تحریکوں پر چلانا ہوتا ہے۔یعنی ملائکہ خود انسان سے نیکی نہیں کراتے بلکہ نیکی کرانے کے لئے آسانی پیدا کرتے رہتے ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً ایک معزز شخص بہت سے لوگوں میں سے گزرے اور وہ لوگ اس کو آگے سے رستہ دیتے جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ اسے چلاتے ہیں۔چلتا تو وہ خود ہے ہاں اس کے چلنے میں وہ لوگ آسانی پیدا کر دیتے ہیں۔فرشتے بھی انسان کے لئے ایسے ذرائع پیدا کرتے ہیں کہ وہ بآسانی نیکی کر سکے۔اسی طرح شیطان یہ نہیں کرتا کہ کسی سے جبراً کوئی برائی کراتا ہے بلکہ جب کوئی شخص ایک بُرائی کا ارتکاب کر لیتا ہے تو شیطان اس کے سامنے دوسری رکھ دیتا ہے اور جب دوسری کر لیتا ہے تو تیسری۔اسی طرح آگے آگے چلاتا جاتا ہے۔مثلاً چلتے چلتے کسی کو خیال پیدا ہوا کہ چوری کروں۔اس خیال کے آنے پر شیطان نے اس کی توجہ اس طرف پھرادی کہ فلاں شخص مالدار ہے۔گویا شیطان کا اتنا ہی کام ہے کہ مشورہ دے۔یہ نہیں کہ قلب پر قبضہ پالے۔اس لئے جو نیکی یا بدی انسان کرتا ہے وہ اس کا اپنا ہی فعل ہوتا ہے۔ملک یا شیطان صرف تحریک کر دیتا ہے۔تیسرا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کو ایسی جگہ لے جاتا ہے جہاں نیکی کی تحریک پیدا ہو سکے۔آگے اس تحریک کا حاصل کرنا انسان کے دل کا کام ہوتا ہے۔