مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 79
مکتوب نمبر۷محبیّ مکرمی اخویم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ مخلص دوست ہیں۔خدا تعالیٰ اپنی محبت سے رنگین کرے کہ دنیا میں آنے سے یہی غرض اور یہی عمدہ تحفہ ہے جو دنیا سے لے جا سکتے ہیں۔٭ ۲۵؍اگست ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی سیّد محمد احسن صاحب سلمہ ٗتعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ مع ایک خط و نقل جوابات پہنچا۔آپ نے جو کچھ لکھا ہے بہت مناسب لکھا ہے اور اگر تحریر نہ فرماتے تب بھی کچھ مضائقہ نہیں تھا جن لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ نے مناسبت پیدا نہیں کی اور نیک ظنی کی قوت نہیں بخشی وہ انبیاء علیہم السلام سے بھی اصلاح پذیر نہیں ہو سکے۔ہر ایک انسان کا فطرتی مادہ اپنی کیفیت کی طرف اس کو کھینچ رہا ہے۔۔۱؎ زیادہ خیریت ہے۔٭٭ والسلام ۲۶؍اگست ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٭ الفضل نمبر۱۶۱ جلد ۳۴ مورخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۴۶ء صفحہ۳ ۱؎ بنی اسرآء یل : ۸۵ ٭٭ الحکم نمبر۲۳ جلد۷ مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۳