مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 74
آپ اس رائے میں غلطی پر ہیں اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو مولوی صاحب اُن وجوہات کو جو پیش کی گئی تھیں سمجھ لیتے وہ میرے ایک پُرانے دوست ہیں اور اُن کی نسبت میرا نیک ظن ہے اور گو وہ اپنے خیال میں اب بہت دور جا پڑے ہیں مگر مجھے اس تصور سے بغایت درجہ دل دردمند ہے کہ ایسا دوست محروموں اور محجوبوں کی طرح ہو جائے میرے دل میں پختہ ارادہ ہے کہ ان کے لئے غائبانہ کوشش کروں اور اُس قادر مطلق سے جس پر میرا بھروسہ ہے اُن کی رہائی چاہوں ظاہری بحثوں اور مناظرات سے دل نرم نہیں ہو سکتا بلکہ جہاں تک میرا تجربہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ آج کل کے مباحثات ومناظرات مخالفت وکینہ وبخل کو بڑھانے والے ہیں اور ان کا ضرر ان کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے یہ بھی دیکھا ہے کہ مجرد مشاہدہ خوارق اور کرامات کا کسی کی ہدایت کے لئے کافی نہیں بلکہ ہدایت امر منجانب اللہ ہے جو سعید روحیں ہیں بہرحال اُس کو پا لیتی ہیں۔یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین صاحب نے کچھ عرصہ قادیان میں رہنے کے لئے مجھے لکھا تھا اُس وقت میں نے اُس وقت کے مصالح کے موافق بھی مناسب سمجھا تھا کہ ابھی وہ اپنے مکان میں اپنے کام میں لگے رہیں لیکن میری دانست میں اس وقت کی حالت قرب کو چاہتی ہے مولوی صاحب کے دل میں طرح طرح کے شکوک وشبہات ہیں اور میری دانست میں جو کچھ ان کے دل میں ہے وہ بہت زیادہ اُس سے ہے کہ جو اُن کی زبان سے نکلتا ہے مگر بوجہ منطقی طبع ہونے اور نیز بباعث علاقہ دوستی ومحبت کے وہ اپنے دل کے پورے شبہات وبخارات کو ظاہر نہیں فرما سکتے کیونکہ وہ ایسا فعل برخلاف طریق واتقا واخلاص کے خیال کرتے ہیں لیکن اگر اُنھیں الہامات اور اُن انوار الٰہیہ میں تأ ّمل ہے کہ جو اس عاجز پر نازل ہو رہے ہیں تو اس سے بہتر کوئی طریق نہیں کہ مولوی صاحب اپنی پہلی درخواست کے موافق تین چار ماہ تک درویشانہ حالت میں اس عاجز کے پاس گوشہ گزین ہوں اور یہ عاجز وعدہ کرتا ہے کہ اگر مولوی صاحب قادیان میں اس قدر مدت تک رہیں تو جہاں تک طاقت ہے اُن کے لیے دُعا کروں گا اور خدا تعالیٰ سے اُن کی تفہیم چاہوں گا اللہ شانہٗ کے اختیار میں ہے کہ جو چاہے ظہور میں لاوے لیکن اگر کچھ آثار نہ ہوں تو کم سے کم مولوی صاحب کے ہاتھ میں یہ بات تو ضرور آجائے گی کہ یہ شخص مقبولین میں سے نہیں ہے کیونکہ مقبولین جب جوش دل سے اضطرار کے وقت میں اپنے ربِّ جلیل سے