مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 73

مکتوبات احمد ۷۳ جلد: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبرا نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مدت کے بعد عنایت نامہ پہنچا کبھی کبھی اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں گو اس عاجز کی طرف سے بوجہ کم فرصتی جواب بھیجنے میں کچھ تاخیر بھی ہو جایا کرے ۔ مولوی محمد بشیر صاحب بلا شبہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اخلاص سے خدا تعالیٰ کا راہ طلب کرتے ہیں مگر انسان بعض شبہات کے پیدا ہونے سے مجبور ہو جاتا ہے ہر ہو جاتا ہے ہر یک دل اللہ جل شانہ کے دست تصرف میں ہے جس طرف چاہتا ہے پھیرتا ہے ۔ یہ عاجز اگر وقت ہاتھ آیا اور اللہ جل شانہ نے ارادہ فرمایا تو کسی وقت مولوی صاحب موصوف کے لیے دعا کرے گا ۔ خدا تعالی طالب صادق کو ضائع نہیں کرتا اور با استعداد آدمی کو محجوب رہنے نہیں دیتا۔ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو ایک مصلحت عظیم کے لیے برپا کیا ہے اور صادقین اور متقین کو اس میں داخل کرنا چاہا ہے سو وہ خود اپنے قومی ہاتھ سے اپنے لوگوں کو اس طرف کھینچ لائے گا اگر کوئی راست باز آدمی کچھ مدت تک بعض خدشات کی وجہ سے متخالف رہے تو یہ کچھ اندیشہ کی بات نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے مخلص قوی الایمان چار برس کے بعد ایمان لائے ۔ مجھے قریب قریب یقین کے معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت خدا تعالیٰ مولوی محمد بشیر صاحب کو اطمینان بخش دے گا۔ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے چند خط در باب الہامات ضرور لکھے تھے مگر چونکہ یہ عاجز بدل اس بات سے متنفر ہے کہ اپنے ہم مشرب بھائیوں سے جو تعلق محبت بھی رکھتے ہیں ظاہری جھگڑوں اور مناظرات میں اُلجھا رہے اس لئے ایک دن بھی وہ خط بحفاظت نہیں رکھے کے سے تھا گئے کیونکہ اُن کے کسی آخری نتیجہ سے کچھ غرض نہیں تھی مولوی صاحب کو نرمی سے سمجھایا گیا تھا کہ ل الملك : ٢