مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 71

جو ریاست بھوپال میں تھی علیٰحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح کے پاس حاضر ہوں اور اس کے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجا لاویں اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔حضرت مسیح موعود ؑ ’’ازالۂ اوہام‘‘ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’مولوی صاحب موصوف اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص و محبت اور تعلق روحانی رکھتے ہیں ان کی تالیف کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ لیاقت کے آدمی اور علوم عربیہ میں فاضل ہیں۔بالخصوص علم حدیث میں ان کی نظر بہت محیط اور عمیق معلوم ہوتی ہے۔حال میں انہوں نے ایک رسالہ اعلام الناّس اس عاجز کے تائید دعویٰ میں بکمال متانت و خوش اسلوبی لکھا ہے۔جس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف علم دینیہ میں کس قدر محقق اور وسیع النظر اور مدقّق آدمی ہیں۔انہوں نے نہایت تحقیق اور خوش بیانی سے اپنے رسالہ میں کئی قسم کے معارف بھر دیئے ہیں۔‘‘ آپ نے ۱۵؍جولائی ۱۹۲۶ء کو امروہہ میں وفات پائی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔٭ ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحہ ۵۶ ، ۵۷