مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 70
حضرت مولوی سید محمد احسن رضی اللہ عنہ کے والد سید مردان صاحب محلہ شاہ علی سرائے امروہہ کے رہنے والے تھے۔آپ نواب صدیق حسن خان آف ریاست بھوپال کی مجلس علماء کے خاص رکن تھے۔نواب صاحب کو دینی علم کا خاص شوق تھا۔انہوں نے ہندوستان کے چیدہ علماء کی ایک جماعت کو منتخب کر کے اپنے پاس ملازم رکھا ہوا تھا۔جو انہیں علمی مواد بہم پہنچاتے رہتے تھے جس کی مدد سے انہوں نے مختلف دینی کتب تصنیف کیں۔ان علماء میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل تھے۔نواب صاحب کے ہاں آپ کی بڑی عزت تھی۔آپ ریاست بھوپال میں مہتمم مصارف کے عہدہ پر فائز تھے۔آپ نے ۲۳؍اپریل ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس ؑ کی تحریری بیعت کی۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت کا نمبر۸۷ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے جب ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو علماء کی طرف سے مخالفت کا زبردست شور اٹھا۔کفر کے فتوے لگائے گئے۔حضور ؑ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں بیان فرماتے ہیں۔آپ ایک دفعہ نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہے تھے جس میں آپ ؑ کے آنے کی خبر ان کے اس شعر میں ہے۔مہدی وقت و عیسیٰ دوراں ہر دو را شہسوار می بینم عین اس شعر کے پڑھنے کے وقت الہام ہوا۔از پئے آں محمد احسن را تارک روزگار می بینم یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اس غرض کے لئے اپنی نوکری سے