مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 552
مکتوبات احمد ۵۵۲ جلد پنجم اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم جیسا کہ بیان کر چکے ہیں ۔ قرآن کو سب حدیثوں پر مقدم رکھتے ہیں اور ان حدیثوں کو مانتے ہیں جو قرآن کے موافق ہیں اور ہمارے مخالف دیوانوں کی طرح بار بار وہ حدیثیں پیش کرتے ہیں جو قرآن کے مخالف پڑی ہیں اور خود با قراران کے علماء کے ضعیف اور مجروح ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ یعنی قرآن کے بعد کس حدیث کو تم مانو گے ۔ سو ہم اس آیت پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کے بعد اور کسی حدیث کو جو اس کے مخالف ہو نہیں مانتے۔ مکرم آنکه حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کا نام حکم رکھا ہے پس مسیح موعود کے لئے عملی ثبوت حکم ہونے کا بھی چاہیے تا کہ اس کا حکم ہونا ثابت ہو جاوے اور حکم ہونا اسی وقت مسیح موعود کا مانا جاوے گا کہ وہ متنازعہ فیہ امور کو صاف کر کے دکھا دے اور جو حدیثیں کہ مجروح و مخدوش ہوں یا قرآن شریف کے خلاف ہوں ۔ ان کو علیحدہ کر دے اور ان کا مجروح ہونا ثابت کر کے دکھا دے اور جو احادیث قرآن شریف کے مطابق اور موافق ہوں اور وہ صحیح ہوں ۔ ان کی صحت پر اپنی مہر صداقت لگا دے ۔ اگر وہ ہر ایک فرقہ کی حدیثوں کو قبول کرلے اور ا ہر ایک فرقہ اور مشرب کے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاتا رہے تو وہ کا ہے کا حکم ہوگا وہ حکم اسی وقت مانا جاوے گا کہ خبیث و طیب اور مردود و مقبول صحیح و موضوع احادیث میں تصرف کر کے اور خدا سے علم صحیح پا کر تمیز و تفریق کر کے دکھا دے۔ سو ہم نے خدا کے فضل اور اس کی تعلیم سے ہر ایک امر میں بحیثیت حکم ہونے کے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ فرق کر دیا ہے اور صحیح حدیثوں کو الگ اور موضوع اور مجروح حدیثوں کو الگ کر کے دکھا دیا اور بتلا دیا کہ مہدی کی حدیثیں سب نا قابل اعتبار اور قرآن شریف کے خلاف ہیں ۔ ان میں اگر صحیح حدیث ہے تو یہی ہے کہ لا مهدی الا عیسی اور دجال کی وہ حدیثیں جو خلاف قرآن اور شرک سے پر ہیں ۔ یہی بتلا دیا کہ خراب اور ایمان کی برباد کرنے والی ہیں اور سراسر جھوٹی ہیں ☆ ۔ ۲۲ جولائی ۱۹۰۰ء الاعراف : ۱۸۶ الحکم نمبر ۲۷ جلد ۴ مورخه ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ ء صفحه ۱ تا ۵ والسلام