مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 550
طرف حضرت علی کے کان میں پھونک مار دی کہ نبوت کا تیرا حق تھا جبرئیل کو یہ غلطی لگ گئی۔۱۱۔عیسیٰ اُتریں گے پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہو گی۔میں نہیں سمجھتا کہ یہ اعتراض کیوں پیش کیا ہے۔ہر ایک شخص نکاح کرتا ہے اور اولاد بھی ہو جاتی ہے ہاں اس صورت میں اعتراض ہو سکتا تھا کہ اب تک میں نے کوئی نکاح نہ کیا ہوتا یا اولاد نہ ہوتی نکاح موجود ہے اولادبھی چھ۶ لڑکے ہیں۔۱۲۔اور یہ اعتراض جو مسیح ؑکا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر میں دفن کیا جانا ضروری ہے اول تو یہ قبل از وقت ہے کیونکہ ابھی تک میں زندہ موجود ہوں۔پھر ماسوا اس کے جو معنے اس حدیث کے آپ لوگ سمجھتے ہیں۔اس سے تو لازم آتا ہے کہ حضرت مسیح اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں ایک قبر میں دفن کئے جاویں کیونکہ حدیث میں معی کا لفظ موجود ہے اور دوسرا فساد یہ ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھودی جاوے اور یہ نبی کی قبر کی توہین اور تحقیر ہے۔اس لئے اس حدیث کے معنے بھی روحانی طور پر ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب قریب اس کا مرتبہ ہو گا اور وہ بہشت جو میری قبر کے نیچے ہے اس سے وہ پورے طور پر حصہ پائے گا۔بات یہ ہے کہ تمام صوفیا کرام اور اہل اللہ اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص اپنی وفات کے بعد اسی درجہ تک اخروی نعمتوں سے حصہ پا سکتا ہے جس درجہ تک اس کاآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر سے قرب ہے۔ہر ایک انسان جو مرتا ہے خواہ مشرق میں مرے خواہ مغرب میں اگر وہ مومن ہوتا ہے تو اس کی قبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر سے روحانی طور پر نزدیک کی جاتی ہے اور جو کافر مرتا ہے اس کی قبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر سے دور کی جاتی ہے۔کیونکہ جب کہ ہر ایک مومن کے لئے بہشت کی کھڑکی قبر میں کھولی جاتی ہے اور بہشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے نیچے ہے تو بالضرور ماننا پڑا کہ ہر ایک مومن اپنے مرتبہ اور عزت کے موافق مرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر سے نزدیک ہو جاتا ہے۔۱۳۔اور یہ حدیث مسلم کی جو ایک لمبی حدیث ہے جس میں دجال کا کانا ہونا اور اس کا مینہ برسانا وغیرہ لکھا ہے ہم اس وقت اس کا جواب دیں گے جب کہ آپ اس کا جواب دے لیں