مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 47
مکتوبات احمد ۴۷ جلد پنجم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بخدمت جناب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته اما بعد عرض می کنم که در ملک خود اہل نسب دارم مثلاً پدر وعم و خال و برادر و غیره از اقرباء واہل وطن ہمراہ من خط و کتابت می کنند بعض از آنها در بیعت داخل اند و بعض تا حال در بیعت داخل نه لیکن تابع و تصدیق کننده اند و نیز محبت بسیار دارند و بعض در تصدیق ہم سست اند لیکن میلان دارند و نیز امید من است که آنها را اللہ تعالی از صادقان مخلصان بگرداند۔ الغرض اگر من آن کس را که در بیعت داخل نیست چنان الفاظ بنویسیم مثلاً ( اخوی مکرم ) یا مشفق مهربان یا تعظیمات و تسلیمات برائے فلاں کسی مثلاً یا دعا و سلام از طرف من برفلاں اخوی ام ☆ برسد و غیر ذالک جائز است یا نه و آنها نیز این الفاظ برائے من می نویسند فقط والسلام غلام محمد افغان بقلم خود قادیان ترجمه از ناشر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بخدمت جناب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد عرض کرتا ہوں کہ میں اپنے ملک میں عزیز واقارب رکھتا ہوں ۔ جیسے باپ، چا، ماموں اور بھائی وغیرہ اور مجھ سے یہ اقرباء اور اہل وطن خط و کتابت کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض بیعت و کر چکے ہیں جبکہ بعض نے تا حال بیعت نہیں کی لیکن تابع اور تصدیق کرنے والے ہیں نیز بہت محبت رکھتے ہیں۔ اور بعض تصدیق کرنے میں بھی سست ہیں لیکن اس طرف میلان رکھتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ مولیٰ کریم انہیں بھی مخلص صادقوں میں سے بنادے گا۔ الغرض یہ کہ اگر میں ان لوگوں کو جو بیعت میں داخل نہیں۔ ان الفاظ میں مخاطب کروں کہ مثلاً اخوی مکرم یا مشفق و مہربان یا فلاں شخص سلام وتعظیم یا مثال کے طور پر کہ میری طرف سے میرے فلاں بھائی بدر نمبر ۷ ۱ جلد ۶ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحه ۵