مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 538

کہ سب قرنوں سے افضل قرن تو مرا قرن ہے اور اس کے بعد جو قرن اس کے قریب ہوگا۔اورپھر اس کے بعد جو قرن اس کے قریب ہوگا اور پھر اس کے بعد کذب یعنی بدعات اورخرابیاں دین اسلام میں شائع ہو جاویں گی اورایسا ہی واقع ہوا۔فصدق رسولہ الکریم۔اب ہم دونوں سلسلوں کی آخر پر بھی نظر کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے بعد قریباً چودہویں صدی میں جبکہ تحریفات اوربدعات کا زمانہ بڑے زور و شور پر تھا۔حضرت عیسیٰ بن مریم واسطے اصلاح اُمت موسوی کے مبعوث ہوئے اور وہی خاتم الخلفاء سلسلہ موسویہ کے بھی ہوئے ہیں۔پس حسب مقتضاء لفظ کما کے ضروری ہوا کہ خاتم خلفاء سلسلہ محمدیہ کا بھی بنام مسیح بن مریم تقریباً چودہویں صدی ہجریہ میں امت محمدیہ میں سے ہی مبعوث ہوئے تاکہ دونوں سلسلوں میں تماثل اور تشابہ پیدا ہو جاوے اور لفظ کما کا نعوذ باللہ عبث اور لغو نہ ہو۔الحمدللہ کہ ایسا ہی واقع ہوا اور واقعات نے شہادت دے دی ہے کہ دونوں سلسلوں میں ایسا ہی تطابق ہے جیساکہ لفظ کما کا مقتضاء ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے راس صدی چہاردہم ہی پر دعویٰ مجددیت و مسیحائی و مہدویت دنیا میں شائع کیا اور ان کے اس دعویٰ پر علاوہ اَدِلہّ شرعیہ کتاب و سنت کے نشانات آسمانی و زمینی سے ہی منجانب اللہ شہادت حاصل ہوگی جو تمام دنیا میں شہرۂ آفاق ہے۔آسمان بارد نشان الوقت میگوید زمین این دوشاہد از پیٔ تصدیق من استادہ اند الحاصل تصدیق آپ کے دعویٰ کی تصدیق آیات الٰہیہ کی ہے۔اور تکذیب آپ کے دعویٰ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی ہے خواہ آیات قرآنیہ ہوں یا نصوص حدیثیہ یا نشانات آسمانی ہوں یا نشانات زمینی۔جن کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخبر صادق نے کی تھی اور دواوین حدیث میں موجود ہے اب فرمائیے کہ ایسے اربعہ متناسبہ کو کون کو دن تسلیم نہ کرے گا جن کا تناسب واقعات نے ثابت کردیا۔مثلاً نشاناتِ ارضیہ میں سے طاعون اور زلازل ہیں جو احادیث میں ذیل علامات مسیح موعود میں مذکور کی گئی ہیں۔اور پھر بڑے زوروشور کے ساتھ زمانہ مسیح موعود میں وہ واقع ہو چکی اور آیاتِ سماویہ میں سے کسوف و خسوف ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان